اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو
نئی دہلی: ہارن آف افریقہ سے الگ ہونے والے صومالی لینڈ کو ایک خودمختار ملک کے طور پر تسلیم کرنے کا اسرائیل کا قدم الٹا پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگرچہ یورپی یونین نے بھی صومالی لینڈ کو ایک ملک کے طور پر تسلیم کیا ہے، لیکن امریکہ اور پاکستان سمیت 21 ممالک نے اسرائیل کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔
صومالی لینڈ کو بطور ملک تسلیم کرنے کے پیچھے اسرائیل کی اپنی اسٹریٹجک حکمتِ عملی ہے۔ دراصل بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن کے قریب واقع صومالی لینڈ کی حمایت کے ذریعے اسرائیل حوثی باغیوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا چاہتا ہے۔ اسرائیل طویل عرصے سے مشرقِ وسطیٰ اور افریقی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ حالانکہ، غزہ میں جاری جنگ نے اس راستے کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے بعد اسرائیل اب امریکہ کی حمایت کا منتظر ہے، حالانکہ امریکی صدر ٹرمپ اس حوالے سے پہلے ہی بیان دے چکے ہیں۔
صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے پیچھے کیا ہے مقصد؟
اسرائیل بحیرۂ احمر میں اپنی موجودگی مضبوط کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے صومالی لینڈ ایک اہم اتحادی ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا بحیرۂ احمر کی جغرافیائی سیاست کے توازن کو بدل سکتا ہے۔ صومالی لینڈ کے ذریعے اسرائیل کو براہِ راست بندرگاہِ بربرہ (Port of Berbera) تک رسائی مل سکتی ہے، جس سے بحیرۂ احمر میں حوثیوں کے خطرے کے تناظر میں ایرانی اثر و رسوخ کو کم کرنے اور سکیورٹی کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
صومالیہ کے شمال مغربی حصے پر صومالی لینڈ کا کنٹرول ہے۔ اس کی سرحدیں شمال مغرب میں جبوتی اور مغرب و جنوب میں ایتھوپیا سے ملتی ہیں۔ یمن کے بالمقابل بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع یہ خطہ اسرائیل کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
صومالی لینڈ کے یو اے کی کے ساتھ خوشگوار تعلقات
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری سے متعلق کسی بھی اقدام کے لیے امریکہ کی حمایت ضروری ہے۔ اس دوران اسرائیل اور صومالی لینڈ نے اعلان کیا ہے کہ ان کے تعلقات ابراہم معاہدوں کی روح کے مطابق استوار ہو رہے ہیں۔ اسرائیل کے علاوہ صومالی لینڈ کے صرف تائیوان کے ساتھ باضابطہ تعلقات ہیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ تائیوان کو بھی تاحال عالمی سطح پر مکمل تسلیم شدہ حیثیت حاصل نہیں۔ حالانکہ، صومالی لینڈ کے متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی مضبوط اور خوشگوار تعلقات ہیں۔ یو اے ای بربرہ بندرگاہ میں ایک فوجی اڈہ بھی چلاتا ہے، جس میں ایک بحری بندرگاہ اور لڑاکا طیاروں و ٹرانسپورٹ طیاروں کے لیے ایک ایئر اسٹرپ شامل ہے۔
یمن کے خلاف جاری مہم میں اہم کردار ادا کرتا فوجی اڈہ
رپورٹس اور ماہرین کے مطابق یہ اڈہ یمن میں صنعاء کے خلاف یو اے ای کی قیادت میں جاری مہم میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ادھر ایتھوپیا نے رواں سال کے آغاز میں بحیرۂ احمر تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے تھے۔ حالانکہ، پڑوسی ممالک کے دباؤ کے باعث اس معاہدے کو روک دیا گیا۔
صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے کو کر دیا گیا مسترد
دوسری جانب پاکستان، اردن، مصر، الجزائر، کوموروس، جبوتی، گیمبیا، ایران، عراق، کویت، لیبیا، مالدیپ، نائجیریا، عمان، فلسطین، قطر، سعودی عرب، صومالیہ، سوڈان، ترکیہ، یمن اور او آئی سی کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو دی گئی منظوری کو مسترد کر دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
