Bharat Express DD Free Dish

سیاست

ابوسلیم کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل رشی ملہوترا نے دلیل دی کہ جیل میں اچھے برتاؤ کے لیے ملی سزا میں چھوٹ اور مقدمے کی کارروائی کے دوران جیل میں گزاری گئی مدت کو شامل کرنے کے بعد اس کی 25 سال کی سزا مکمل ہو چکی ہے۔ملہوترا نے یہ بھی کہا کہ اب ابوسلیم کو جیل میں رکھنا غیر قانونی حراست کے مترادف ہے اور یہ اس کے آئینی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔

نتن گڈکری نے کہا، ’’اب میں نے اس کے افتتاح کے لیے اچھے وقت کا انتظار کرنا چھوڑ دیا ہے۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ممبئی-گوا ہائی وے کے افتتاح کے لیے نہیں جاؤں گا، کیونکہ اس میں ہوئی تاخیر پر مجھے شرمندگی ہوتی ہے۔‘‘تاہم، گڈکری نے امید ظاہر کی کہ منصوبہ جلد مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا، ’’کل میری ایک میٹنگ ہوئی تھی اور مجھے بتایا گیا کہ ہائی وے کا 93 سے 94 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔

سال 2024 میں وجے نے اپنی سیاسی پارٹی "تملگا ویٹری کڑگم" (ٹی وی کے) قائم کی اور عملی سیاست میں قدم رکھا۔ 2026 کے تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں ان کی جماعت نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے ریاست کی سب سے بڑی پارٹی کا درجہ حاصل کیا ۔ٹی وی کے نے 234 رکنی اسمبلی میں 108 نشستیں جیتیں۔

ڈاکٹر اندریش کمار نے ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام سے رہنمائی لینے کی اپیل کی؛ دانشوروں، ماہرینِ تعلیم اور سماجی رہنماؤں نے قومی یکجہتی، سماجی ہم آہنگی اور قوم سازی کے عزم کا اعادہ کیا

کیرلا، آسام اورپڈوچیری میں ووٹنگ جاری ہے۔ ملک کی تینوں ریاستوں میں ووٹنگ جوش وخروش کے ساتھ ہو رہی ہے۔ شام 5 بجے تک آسام میں 84.42 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ اس کے  علاوہ کیرلا میں 5 بجے تک 75.01 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ وہیں پڈوچیری میں 5 بجے تک 86.92 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔

اویوا بیگ آرٹ کے شعبے کے ساتھ ساتھ کاروباری دنیا میں بھی سرگرم ہیں۔ وہ ایٹلیئر 11 نامی فوٹوگرافی اسٹوڈیو اور پروڈکشن کمپنی کی شریک بانی ہیں، جو ملک بھر میں مختلف برانڈز اور ایجنسیوں کے ساتھ کام کرتی ہے۔

اس سے قبل جمعہ کی شام جب پی ٹی آئی نے ششی تھرور سے راہل اور کھرگے کو دعوت نہ دیے جانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا، "میں دعوت ناموں کی بنیاد نہیں جانتا، لیکن میں اس تقریب میں ضرور شرکت کروں گا۔

انڈیا ٹوڈے سے گفتگو میں پوتن نے کہا:“ہمارے درمیان نہایت قابل اعتماد اور دوستانہ تعلقات ہیں۔ وہ ایک انتہائی بااعتماد شخص ہیں۔ میں پورے اخلاص سے کہتا ہوں کہ بھارت خوش قسمت ہے۔ وہ بھارت کے لیے جیتے اور سانس لیتے ہیں۔”

ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے وزیر اعظم مودی خود ایئرپورٹ پہنچے اور صدر ولادیمیر پوتن کا پرجوش انداز میں استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان گرمجوشی، ہنسی مذاق اور مسلسل گفتگو کے مناظر دیکھنے کو ملے۔ دونوں نے ساتھ بیٹھ کر گاڑی میں سفر کیا اور وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر ہونے والے نجی عشایئے میں شرکت کی۔

ولادیمیر پوتن کا یہ دورہ 2021 کے بعد پہلی بھارت دورہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارت—روس اسٹریٹجک شراکت داری کے 25 سال اور 23واں سالانہ سربراہی اجلاس بھی اسی موقع پر ہو رہا ہے، جو اسے مزید اہمیت دیتا ہے۔