بین الاقوامی

"Super Tuesday" امریکی انتخابی کیلنڈر کے مصروف ترین دنوں میں سے ایک ہے۔ چونکہ امریکی صدارت کی دوڑ مختصر ہے، اس لیے امیدواروں کے انتخاب کے لیے یہ بہت اہم ہے۔ "سپر منگل" کو ریپبلکن 15 ریاستوں میں اور ڈیموکریٹس 15 ریاستوں اور ایک علاقے میں نامزدگی کے مقابلے منعقد کریں گے۔

دنیا بھر میں امیروں کی فہرست میں کافی  بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ جس کی وجہ سے ایلون مسک کو اس فہرست میں بڑا جھٹکا لگا ہے۔ بلومبرگ کے مطابق ایکس اور ٹیسلا جیسی بڑی کمپنیوں کے مالک ایلون مسک اب دنیا کے امیر ترین شخص نہیں رہے۔

اس وقت پشپ کمال اور شیر بہادر کے لیڈروں کے درمیان کچھ رسہ کشی چل رہی تھی۔ جس کی وجہ سے 15 ماہ پرانا اتحاد ٹوٹ گیا ہے۔ اس کے علاوہ پرانے اتحاد کے ٹوٹنے میں چین کی مداخلت کی بھی بات بھی سامنے آرہی ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکہ نے 66 ڈبوں میں 38 ہزار افراد کےکھانے کے لیے تیار کھانا گرایا۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ صرف شروعات ہے، وہ مستقبل میں بھی غزہ میں مقیم فلسطینیوں کی مدد کرتا رہے گا۔ یہ مشترکہ آپریشن تھا۔ اس میں اردنی فوج بھی شامل تھی۔

غزہ جنگ سے متعلق اسرائیلی شہریوں کے درمیان ہوئے ایک سروے میں پتہ چلا ہے کہ اسرائیل کے شہری ہی جنگ سے متعلق اپنے وزیراعظم کے ساتھ نہیں ہیں۔ سروے میں 53 فیصد شہری مانتے ہیں کہ اسرائیل کے بنجامن نیتن یاہو اپنی اقتدار کے لئے غزہ جنگ کو لمبا کھینچ رہے ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے قطری وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد الثانی کی صدارت میں ہونے والے اجلاسوں میں شرکت کی۔وزرا نے فوری جنگ بندی کے حصول اور انسانی، خوراک اور طبی امداد کی فراہمی کے لیے امدادی راہ داریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

اتوار کے روز، اپوزیشن کے نعروں کے درمیان، شہباز نے نو منتخب پارلیمنٹ میں آرام سے اکثریت حاصل کر لی تھی۔ جیسے ہی وہ پاکستان کی نئے وزیر اعظم منتخب ہوئے، شہباز شریف نے پاکستان کی طے شدہ پالیسی پر عمل کرتے ہوئے وہی پرانے کشمیر کے  مسئلے کو اٹھادیا۔

پاکستان مسلم لیگ نون اوران کے اتحادی کی طرف سے نامزد سابق وزیراعظم شہباز شریف ایک بار پھر ایوان میں اکثریت کے ساتھ پاکستان کے 33ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے ہیں ۔ پاکستانی ایوان میں ووٹنگ کے بعد اسپیکر ایاز صادق نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میاں شہباز شریف کے حق میں 201ووٹ پڑے ہیں۔

شروین حاجی پور نے اپنے وکلاء کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا، 'میں جج اور پراسیکیوٹر کے نام نہیں بتاؤں گا تاکہ ان کی توہین یا دھمکی نہ دی جائے کیونکہ انسانیت کے مذہب میں کوئی توہین اور دھمکی نہیں ہے۔

مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی شہباز شریف کو پاکستان مسلم لیگ ن سمیت، پاکستان پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان، پاکستان مسلم لیگ، استحکام پاکستان، بلوچستان عوامی پارٹی سمیت کئی اور جماعتوں کی حمایت حاصل ہو گی۔جبکہ تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب خان کو سنی اتحاد کونسل کے اراکین کی حمایت حاصل ہو گی۔