Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو دہشت گرد قرار دینا درست نہیں، کیونکہ ایران خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے پر رضامند ہوجائے تو آبنائے ہرمز کو سات دن کے اندر مکمل طور پر کھولا جاسکتا ہے، تہران نے سفارتی حل کے لیے واشنگٹن سے باضابطہ یقین دہانی بھی مانگی ہے۔

گزشتہ ہفتے روس اور یوکرین دونوں نے توانائی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ بڑے لاجسٹکس مراکز کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ حملوں کا یہ سلسلہ اس وقت بھی جاری ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ دونوں فریق توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے نہ کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔

پی ٹی آئی کا ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان، عمران خان کی صحت اور جیل میں سہولیات کا معاملہ بھی زیر بحث

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک اہم اور ضروری گفتگو کی ہے۔ زیلنسکی کے مطابق، دونوں لیڈروں کے درمیان نیویارک میں ملاقات کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یہ ملاقات کئی اہم معاملات میں تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے یوکرین کے لیے امن کے عمل کو ’اولین ترجیح‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سمت میں امریکا کے ساتھ مل کر کام جاری ہے اور یوکرین سنجیدہ اقدامات کے لیے تیار ہے۔

اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے اسکولوں میں برقع اور نقاب پر پابندی، غیر ملکی طلبہ کی تعداد محدود کرنے اور بعض والدین کے لیے اطالوی زبان سیکھنا لازمی بنانے کی تجویز پیش کی ہے

ولادیمیر پوتن یونائیٹڈ رشیا پارٹی کے رکن نہیں ہیں، تاہم وہ 2008 سے 2012 تک پارٹی کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ اس وقت بھی وہ پارٹی کے باقاعدہ رکن نہیں تھے۔ پارٹی کے ضابطوں کے مطابق چیئرمین بننے کے لیے پارٹی کی رکنیت لازمی نہیں ہے۔ 2012 میں پوتن نے پارٹی چیئرمین کا عہدہ چھوڑ دیا تھا، جس کے بعد دمتری میدویدیف نے یہ ذمہ داری سنبھالی۔

فروری 2026 میں سرحد پر بڑھتی کشیدگی کے بعد افغان طالبان فورسز نے پاکستانی فوجی چوکیوں پر جوابی حملے کیے تھے۔ پاکستان نے 27 فروری 2026 کو جواب دیتے ہوئے افغانستان کے اندر کابل، قندھار اور پکتیا جیسے علاقوں میں فضائی اور زمینی حملے تیز کر دیے تھے۔ اس صورتحال کو کھلی جنگ جیسی کیفیت قرار دیا گیا تھا۔مارچ کے وسط تک دونوں فریقوں کے درمیان مسلسل لڑائی جاری رہی۔

ٹرمپ اب بھی سمجھتے ہیں کہ تجارتی جنگ میں امریکہ کے پاس برتری ہے، لیکن چین کے ساتھ تجربے نے یہ ظاہر کیا کہ صرف دباؤ بڑھانے سے ہر مسئلے کا حل نہیں نکلتا۔ چین برقی گاڑیوں، بیٹریوں اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور اس کی مصنوعات دنیا بھر کی منڈیوں تک پہنچ رہی ہیں۔

یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں ٹویوٹا پک اَپ ٹرکوں کی اچانک بڑھتی ہوئی تعداد نے عالمی سلامتی کے اداروں کی تشویش بڑھا دی ہے۔ میزائل اور ڈرون حملوں کے درمیان ہزاروں ٹرکوں کی یہ تعیناتی بحیرۂ احمر کے اہم تجارتی راستے باب المندب میں حوثیوں کی ایک نئی حکمت عملی کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔