Bharat Express DD Free Dish

oman

امریکی سفارت خانے نے کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف حملوں میں حصہ لیا ہے، جن میں شہری ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ سفارت خانے کے مطابق، یہ فوجی تنازع بہت تیزی سے شدت اختیار کر سکتا ہے۔

ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو نئے انداز میں منظم کرنے کے لیے عمان کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔ تہران کے مطابق مقصد یہ ہے کہ اس اہم آبی گذرگاہ میں موجود مختلف بحری راستوں کی جگہ ایک مشترکہ دوطرفہ راہداری قائم کی جائے تاکہ جہازوں کی نقل و حرکت زیادہ محفوظ اور منظم ہو سکے۔

آئی آر جی سی نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اردن کے الازرق میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے دوران ایف-15، ایف-16 اور ایف-35 لڑاکا طیاروں کے شیلٹرز اور متعدد MQ-9 ڈرون تباہ کیے گئے۔قابل ذکر بات یہ ہےکہ  ایران کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے،

وزارت خارجہ نے کہا کہ حکومتِ ہند اس پورے معاملے پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور متاثرہ بھارتی شہریوں کی حفاظت اور امداد کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق آبنائے ہرمز کے اطراف کئی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ دوسری جانب ایران کی انقلابی گارڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بحرین اور کویت میں موجود متعدد امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

24 مئی کو عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد البوسعیدی کی قیادت میں عمانی وفد نے ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کی سربراہی والے وفد سے ملاقات کی۔ دونوں فریقوں نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت اور خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوا نے واقعے کی معلومات دیتے ہوئے کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے درمیان ہونے والے اس حملے پر بھارتی حکومت نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔

عمان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، مارشل آئی لینڈز کے پرچم تلے چلنے والے تیل بردار ٹینکر ایم کے ڈی ویوم پر سلطنتِ عمان کے ساحل سے تقریباً 52 ناٹیکل میل دور ایک بغیر پائلٹ کے سطحی جہاز (یو ایس وی) کے ذریعے حملہ کیا گیا۔

ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں ایران بھی سخت موقف اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جمعہ کے روز استنبول میں کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن وہ کسی قسم کی دھمکی یا دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔

اس بحری جہاز کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اسے قدیم بادبانی طریقے سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ جہاز علامتی طور پر ان تاریخی سمندری راستوں کا ازسرِنو جائزہ لے گا جنہوں نے ہزاروں برسوں سے بھارت کو وسیع تر بحرِ ہند کی دنیا سے جوڑے رکھا ہے۔ اس سفر کے ذریعے یہ جہاز بھارت کی قدیم جہاز سازی اور سمندری روایات کو دوبارہ زندہ کرے گا۔