Bharat Express DD Free Dish

iran

بھارت اور ایران کے درمیان مقابلے کے پہلے ہاف میں زبردست کشمکش دیکھنے کو ملی۔ ایران نے ابتدائی برتری حاصل کی اور ایک وقت بھارت 9-11 سے پیچھے تھا۔ بھارتی ٹیم نے دباؤ کے باوجود شاندار واپسی کی اور پوجا کی اہم ریڈ سمیت کئی بہترین کھیل پیش کیے۔بھارتی کھلاڑیوں کی مسلسل کوششوں کے بعد ٹیم نے اسکور برابر کیا اور پہلے ہاف کے اختتام تک 19-15 کی برتری حاصل کرلی۔

شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا تھا۔ ٹیک آف کے فوراً بعد پائلٹوں کو طیارے میں خرابی کا علم ہوا۔ طیارے کا ٹائر الگ ہونے کے بعد پائلٹوں نے فوری طور پر مسافروں کو تکنیکی خرابی کے بارے میں اطلاع دی۔دوران پرواز طیارے میں شدید جھٹکے لگنے لگے اور وہ زور زور سے ہلنے لگا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پائلٹوں نے طیارے کا رخ دوبارہ مشہد ایئرپورٹ کی جانب موڑ دیا، جہاں اسے بحفاظت اتار لیا گیا۔

ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں خلیجی خطے میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جس سے پورے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

ایرانی صدر نے کہا ’’ایران اس وقت تک اپنی ذمہ داریوں پر قائم رہے گا جب تک امریکہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا رہے گا۔ جہاں کہیں وہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوگا، وہاں ہماری بھی اسے جاری رکھنے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی۔‘‘

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نیوز نے ایک بغیر تاریخ کی ویڈیو جاری کی ہے، جس میں مجتبیٰ خامنہ ای بظاہر صحت مند نظر آرہے ہیں۔ ویڈیو کے اجرا کو مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور موجودہ مقام سے متعلق بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں کو مسترد کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو نئے انداز میں منظم کرنے کے لیے عمان کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔ تہران کے مطابق مقصد یہ ہے کہ اس اہم آبی گذرگاہ میں موجود مختلف بحری راستوں کی جگہ ایک مشترکہ دوطرفہ راہداری قائم کی جائے تاکہ جہازوں کی نقل و حرکت زیادہ محفوظ اور منظم ہو سکے۔

دوسری جانب ایران کے قائم مقام وزیر دفاع سید ماجد ابن الرضا نے کہا کہ تہران ہر دشمن کی دھمکی کو حقیقی اور سنجیدہ سمجھتا ہے اور اسے محض نفسیاتی جنگ قرار نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نہ تو کسی ممکنہ حملے سے حیران ہوگا اور نہ ہی غفلت برتے گا، بلکہ ہر دھمکی کو اپنی دفاعی تیاری، مزاحمتی صلاحیت اور عسکری طاقت میں اضافے کا موقع سمجھتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ابتدا میں تکنیکی نگرانی اور سگنل انٹیلی جنس پر انحصار کیا جا رہا تھا، تاہم مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل غیر موجودگی کے باعث اب انسانی ذرائع (ہیومن انٹیلی جنس) کے ذریعے معلومات حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ زیادہ پیچیدہ، سست اور خطرات سے بھرپور سمجھا جاتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی فوج مکمل طور پر کارروائی کے لیے تیار تھی، تاہم سفارتی کوششوں کو موقع دینے کے لیے مجوزہ حملہ روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ حملے عراق کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ یہ کارروائیاں امریکہ اور صہیونی حکومت کے ان مقاصد کے مطابق ہیں جن کا ہدف مغربی ایشیا میں جنگ اور کشیدگی کو مزید بڑھانا ہے۔