Bharat Express DD Free Dish

iran

رپورٹس کے مطابق ابتدا میں تکنیکی نگرانی اور سگنل انٹیلی جنس پر انحصار کیا جا رہا تھا، تاہم مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل غیر موجودگی کے باعث اب انسانی ذرائع (ہیومن انٹیلی جنس) کے ذریعے معلومات حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ زیادہ پیچیدہ، سست اور خطرات سے بھرپور سمجھا جاتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی فوج مکمل طور پر کارروائی کے لیے تیار تھی، تاہم سفارتی کوششوں کو موقع دینے کے لیے مجوزہ حملہ روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ حملے عراق کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ یہ کارروائیاں امریکہ اور صہیونی حکومت کے ان مقاصد کے مطابق ہیں جن کا ہدف مغربی ایشیا میں جنگ اور کشیدگی کو مزید بڑھانا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم بحری راستوں میں سے ایک ہے۔ دنیا بھر میں بھیجے جانے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس راستے کی اہمیت کے پیش نظر آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ عالمی توانائی منڈی اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کرسکتی ہے۔

امریکی مرکزی کمان نے کہا تھا کہ بحیرۂ عرب میں امریکی بحریہ اور فضائیہ کے وسائل ایران کے خلاف اعلان کردہ بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد اور ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والی بحری آمدورفت کو محدود کرنے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں اور سخت بیانات کے باعث کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، جس سے خطے کی صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے عراق کے عوام کے نام تحریری پیغام میں کہا ہے کہ خطے میں امریکہ کی بلا روک ٹوک بالادست موجودگی کا تسلسل ایک ’بے وقوفانہ خیال‘ ہے۔ انہوں نے اپنے والد علی خامنہ ای کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا عزم بھی دہرایا۔

کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ اس کارروائی کے لیے خطے میں 10 ہزار سے زائد امریکی بحریہ، میرینز اور فضائیہ کے اہلکار، دو طیارہ بردار بحری جہاز، 20 سے زیادہ جنگی بحری جہاز اور درجنوں فوجی طیارے تعینات کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تمام فورسز اس وقت بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کو یقینی بنا رہی ہیں۔

ایران کے مطابق برطانیہ کا دنیا کے کئی ممالک، بالخصوص مغربی ایشیا کے داخلی معاملات میں مداخلت کا طویل ریکارڈ رہا ہے۔ اس کے علاوہ حالیہ عرصے میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں میں بھی برطانیہ کے تعاون کا الزام عائد کیا گیا۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کے بعد جانشین مجتبیٰ خامنہ ای کے پہلے عوامی خطاب کے ساتھ شائع ہونے والی فہرست نے نئی سفارتی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔ ایرانی حکومت کی باضابطہ توثیق سامنے نہیں آئی ہے۔ فہرست میں کیراسٹارمر، ایمانوئل میکرون، جورجیا میلونی، فریڈرک مرز، مارکو روبیو، پیٹ ہیگستھ، بریڈ کوپر، مائیک ہکابی، ایال ضمیر اور گیدون سار شامل ہیں۔