Bharat Express DD Free Dish

iran

امریکہ کے ساتھ بات چیت کے لیے ایران کا ایک وفد ہفتے کی دیر رات سوئٹزرلینڈ پہنچ گیا۔ سوئٹزرلینڈ کی وزارت خارجہ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر ایک بیان میں کہا کہ وہ سوئٹزرلینڈ میں ایرانی وفد کی آمد کا خیرمقدم کرتی ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات لوسرن کے قریب ہونے کی توقع ہے۔ یہ بات چیت سفارتی عمل میں تاخیر کے بعد شروع ہو رہی ہے۔ وینس کے مطابق اعلیٰ سطحی ملاقات سے پہلے ہی مختلف فریقوں کے تکنیکی مذاکرات کار مشاورت میں مصروف تھے۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اس کا پہلا ردعمل ہے اور اگر مفاہمتی معاہدے کی مزید خلاف ورزیاں ہوئیں تو آئندہ مزید اقدامات کیے جائیں گے تاکہ مخالف فریق کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ ایران نے امریکہ پر بھی الزام عائد کیا کہ اس نے معاہدے کی پہلی شق پر عمل درآمد نہ کرکے بداعتمادی اور وعدہ خلافی کا مظاہرہ کیا ہے۔

امریکی حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب اسرائیل نے منگل کے روز جنوبی لبنان میں بھی اپنی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ گزشتہ کئی دنوں سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جوابی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

ایران سے متعلق کشیدگی اور سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایک وقت میں ایک ہی معاملے پر توجہ دینا پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ایران کی اسلامی جمہوریہ سے متعلق معاملہ نمٹائیں گے، اس کے بعد واپسی پر وہاں ایک چھوٹا سا پڑاؤ ڈالیں گے۔

ایران کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام اور اسرائیل کی تازہ فوجی کارروائیوں نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر صورتِ حال پر جلد قابو نہ پایا گیا تو تنازع مزید وسیع ہو سکتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔

تسنیم نیوز ایجنسی نے فوجی حکام کے حوالے سے بتایا کہ اس جنگی کشتی کی رونمائی آئی آر جی سی نیوی کی جانب سے تیز رفتار اور میزائلوں سے لیس بحری صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔

محکمہ خارجہ کے مطابق، ایران اپنی برآمدات کو مختلف ممالک میں پھیلے شپنگ نیٹ ورک کے ذریعے روانہ کرتا ہے۔ بعض جہازوں پر الزام ہے کہ وہ ’غیر قانونی سرگرمیوں‘ اور دیگر خفیہ طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے ایرانی سامان کی ترسیل کر رہے تھے۔

ایران نے 28 فروری سے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مزید سخت کرتے ہوئے ان جہازوں کو محفوظ راستہ دینے سے انکار کر دیا تھا جن کا تعلق اسرائیل یا امریکہ سے تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ فیصلہ ایرانی علاقوں پر مشترکہ حملوں کے بعد کیا گیا۔

یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کی ورلڈ کپ میں شرکت سیاسی تناؤ کے سبب مسلسل خبروں میں ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں مہدی تاج کو مبینہ طور پر کینیڈا میں داخلے سے روک دیا گیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق اس کی وجہ ان کے مبینہ تعلقات اسلامک ریوولوشنری گارڈ کور سے بتائے گئے، جسے کینیڈا نے 2024 میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔