Bharat Express DD Free Dish

iran

امریکی حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب اسرائیل نے منگل کے روز جنوبی لبنان میں بھی اپنی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ گزشتہ کئی دنوں سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جوابی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

ایران سے متعلق کشیدگی اور سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایک وقت میں ایک ہی معاملے پر توجہ دینا پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ایران کی اسلامی جمہوریہ سے متعلق معاملہ نمٹائیں گے، اس کے بعد واپسی پر وہاں ایک چھوٹا سا پڑاؤ ڈالیں گے۔

ایران کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام اور اسرائیل کی تازہ فوجی کارروائیوں نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر صورتِ حال پر جلد قابو نہ پایا گیا تو تنازع مزید وسیع ہو سکتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔

تسنیم نیوز ایجنسی نے فوجی حکام کے حوالے سے بتایا کہ اس جنگی کشتی کی رونمائی آئی آر جی سی نیوی کی جانب سے تیز رفتار اور میزائلوں سے لیس بحری صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔

محکمہ خارجہ کے مطابق، ایران اپنی برآمدات کو مختلف ممالک میں پھیلے شپنگ نیٹ ورک کے ذریعے روانہ کرتا ہے۔ بعض جہازوں پر الزام ہے کہ وہ ’غیر قانونی سرگرمیوں‘ اور دیگر خفیہ طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے ایرانی سامان کی ترسیل کر رہے تھے۔

ایران نے 28 فروری سے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مزید سخت کرتے ہوئے ان جہازوں کو محفوظ راستہ دینے سے انکار کر دیا تھا جن کا تعلق اسرائیل یا امریکہ سے تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ فیصلہ ایرانی علاقوں پر مشترکہ حملوں کے بعد کیا گیا۔

یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کی ورلڈ کپ میں شرکت سیاسی تناؤ کے سبب مسلسل خبروں میں ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں مہدی تاج کو مبینہ طور پر کینیڈا میں داخلے سے روک دیا گیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق اس کی وجہ ان کے مبینہ تعلقات اسلامک ریوولوشنری گارڈ کور سے بتائے گئے، جسے کینیڈا نے 2024 میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نیوز ایجنسی نے ہفتہ کو رپورٹ دی کہ اگر واشنگٹن نے لچک نہ دکھائی تو تہران کے ساتھ امن مذاکرات ناکام ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ ایران نے تین بنیادی شرائط پیش کی ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکی صدر پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ حالیہ ملاقاتوں کے دوران ان کے اور شی جن پنگ کے درمیان بہتر تعلقات قائم ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق، صدر شی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ایران کو کوئی ہتھیار نہیں بھیج رہے۔ یہ ایک اچھا وعدہ ہے اور میں ان کی بات پر بھروسہ کرتا ہوں۔