Bharat Express DD Free Dish

iran

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نیوز ایجنسی نے ہفتہ کو رپورٹ دی کہ اگر واشنگٹن نے لچک نہ دکھائی تو تہران کے ساتھ امن مذاکرات ناکام ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ ایران نے تین بنیادی شرائط پیش کی ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکی صدر پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ حالیہ ملاقاتوں کے دوران ان کے اور شی جن پنگ کے درمیان بہتر تعلقات قائم ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق، صدر شی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ایران کو کوئی ہتھیار نہیں بھیج رہے۔ یہ ایک اچھا وعدہ ہے اور میں ان کی بات پر بھروسہ کرتا ہوں۔

ٹرمپ نے اتوار کے روز سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور انہیں جلد فیصلہ کرنا ہوگا، ورنہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا۔ وقت بہت قیمتی ہے۔

امریکہ نے حال ہی میں ایران سے خام تیل خریدنے کے معاملے پر کئی چینی ریفائنریوں پر بھی پابندیاں عائد کی تھیں، جس کے بعد چین نے اپنی کمپنیوں کو ان پابندیوں کو نہ ماننے کی ہدایت دی تھی۔ بیجنگ کی وزارت خارجہ نے بارہا کہا ہے کہ وہ یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتی ہے کیونکہ ان کی بین الاقوامی قانون میں کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں 8 اپریل کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکہ پر ’غیر ذمہ دارانہ فوجی کارروائی‘ کا الزام لگایا اور کہا کہ جب سفارتی حل موجود ہو تو ایسی کارروائیاں ناقابل قبول ہیں۔

ایرانی فوج نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی اس کے کنٹرول میں ہے اور یہاں سے گزرنے والے جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے اس کی مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگی ضروری ہے۔

ایران نے آبنائے ہرمزکوکھولنے اورامریکہ کواس کی ناکہ بندی ختم کرنے کی اجازت دینے کی تجویزپیش کی، جبکہ جوہری مذاکرات بعد میں ہوسکتے ہیں۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کردیا۔ امریکہ پہلے جوہری ہتھیاروں پرپابندی چاہتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے اور کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔

آبنائے ہرمز اور خلیج فارس عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم خطہ ہیں، جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کو تیل سپلائی کیا جاتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں کے معاملے پر، اکثر اس علاقے میں تنازعات کا باعث بنتی رہی ہے۔

امریکہ نے آبنائے ہرمز میں یہ ناکہ بندی اس وقت نافذ کی جب 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔