Bharat Express DD Free Dish

iran

ایرانی حکومت نے صرف محبوبہ مفتی ہی نہیں بلکہ کشمیر اور لداخ کی کئی اہم شخصیات کو بھی سفارتی ذرائع کے ذریعے دعوت نامے روانہ کیے ہیں۔ دعوت پانے والوں میں نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ اور شیعہ لیڈر آغا سید روح اللہ مہدی، جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے لیڈر عمران انصاری، لداخ کے رکن پارلیمنٹ محمد حنیفہ، معروف شیعہ عالم مسرور عباس انصاری اور آغا سید حسن موسوی الصفوی شامل ہیں

عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی عوام اور قیادت کے خلاف کسی بھی قسم کی دھمکی یا جارحانہ اقدام کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ان کی جانب سے شیئر کی گئی پوسٹ کے مطابق، جب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز سے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کی ’موت طے ہے‘۔

وزیراعظم نریندر مودی نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی ہمیشہ بات چیت، سفارت کاری اور پرامن حل کے اصولوں پر قائم رہی ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی تنازع کا پائیدار حل فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات اور باہمی اعتماد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

صدر پزشکیان نے بعض سیاسی حلقوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکراتی ٹیم کو بدنام کرنے اور قومی فیصلوں پر سوال اٹھا کر حاصل ہونے والی کامیابیوں کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وزیراعظم سے ملاقات سے قبل غدیر نظامی پور نے ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال سے بھی ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے مختلف علاقائی اور سلامتی سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو خوراک کی ضرورت ہے اور امریکہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ضروری غذائی اشیا، خاص طور پر امریکی زرعی مصنوعات، ایران تک پہنچ سکیں۔

ذرائع کے مطابق 4 جولائی سے آغاز ہونے والی کئی روزہ تقریبات 9 جولائی کو مشہد میں تدفین پر اختتام پذیر ہوں گی۔ آخری رسومات اور تدفین کی تقریب میں متعدد عالمی رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔

امریکہ کے ساتھ بات چیت کے لیے ایران کا ایک وفد ہفتے کی دیر رات سوئٹزرلینڈ پہنچ گیا۔ سوئٹزرلینڈ کی وزارت خارجہ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر ایک بیان میں کہا کہ وہ سوئٹزرلینڈ میں ایرانی وفد کی آمد کا خیرمقدم کرتی ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات لوسرن کے قریب ہونے کی توقع ہے۔ یہ بات چیت سفارتی عمل میں تاخیر کے بعد شروع ہو رہی ہے۔ وینس کے مطابق اعلیٰ سطحی ملاقات سے پہلے ہی مختلف فریقوں کے تکنیکی مذاکرات کار مشاورت میں مصروف تھے۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اس کا پہلا ردعمل ہے اور اگر مفاہمتی معاہدے کی مزید خلاف ورزیاں ہوئیں تو آئندہ مزید اقدامات کیے جائیں گے تاکہ مخالف فریق کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ ایران نے امریکہ پر بھی الزام عائد کیا کہ اس نے معاہدے کی پہلی شق پر عمل درآمد نہ کرکے بداعتمادی اور وعدہ خلافی کا مظاہرہ کیا ہے۔