Bharat Express DD Free Dish

iran

جمعرات کے روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے الزام عائد کیا کہ ایران نے تجارتی جہازوں پر دوبارہ حملے کر کے امریکہ کے ساتھ حالیہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں رکاوٹ ڈالنے کی مزید کوشش کی گئی تو امریکہ اس کا پہلے سے زیادہ سخت فوجی جواب دے گا۔

سی این این کے مطابق واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ اسرائیل کی براہِ راست شمولیت سے مغربی ایشیا میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ وہیں دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع نے ایران پر دوبارہ حملے کی تیاری کا اعلان کیا ہے۔

درحقیقت بدھ کے روز نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (NATO) کے سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کو اپنی جانب سے ’ختم‘ قرار دیا تھا اور ایرانی قیادت کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔

ایرانی حکومت نے صرف محبوبہ مفتی ہی نہیں بلکہ کشمیر اور لداخ کی کئی اہم شخصیات کو بھی سفارتی ذرائع کے ذریعے دعوت نامے روانہ کیے ہیں۔ دعوت پانے والوں میں نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ اور شیعہ لیڈر آغا سید روح اللہ مہدی، جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے لیڈر عمران انصاری، لداخ کے رکن پارلیمنٹ محمد حنیفہ، معروف شیعہ عالم مسرور عباس انصاری اور آغا سید حسن موسوی الصفوی شامل ہیں

عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی عوام اور قیادت کے خلاف کسی بھی قسم کی دھمکی یا جارحانہ اقدام کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ان کی جانب سے شیئر کی گئی پوسٹ کے مطابق، جب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز سے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کی ’موت طے ہے‘۔

وزیراعظم نریندر مودی نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی ہمیشہ بات چیت، سفارت کاری اور پرامن حل کے اصولوں پر قائم رہی ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی تنازع کا پائیدار حل فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات اور باہمی اعتماد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

صدر پزشکیان نے بعض سیاسی حلقوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکراتی ٹیم کو بدنام کرنے اور قومی فیصلوں پر سوال اٹھا کر حاصل ہونے والی کامیابیوں کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وزیراعظم سے ملاقات سے قبل غدیر نظامی پور نے ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال سے بھی ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے مختلف علاقائی اور سلامتی سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو خوراک کی ضرورت ہے اور امریکہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ضروری غذائی اشیا، خاص طور پر امریکی زرعی مصنوعات، ایران تک پہنچ سکیں۔

ذرائع کے مطابق 4 جولائی سے آغاز ہونے والی کئی روزہ تقریبات 9 جولائی کو مشہد میں تدفین پر اختتام پذیر ہوں گی۔ آخری رسومات اور تدفین کی تقریب میں متعدد عالمی رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔