Bharat Express

Palestine

ادھر اسرائیل کے ظلم اور بربریت کے شکار فلسطین میں بھی عیدالفطر آج منائی جارہی ہے، بے گھر فلسطینی مسلمان کھلے آسمان تلے، خوراک کی شدید قلت اور بے پناہ مسائل کے دوران عیدالفطر منا رہے ہیں، مسجد اقصیٰ میں نماز عیدالفطر کا اجتماع ہوا۔

سعودی عرب کے مکہ واقع مسجد الحرام میں فلسطین کے لئے دعا کی گئی ہے۔ دعا کے دورام امام الشیخ السدیس سمیت نمازیوں نے فلسطین اور مسجدالاقصیٰ کے تحفظ کے لئے دعا مانگی۔ اس دوران فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر السدیس سمیت نمازیوں کی آنکھیں نم ہوگئیں۔

اسرائیلی ڈیفنس فورس (آئی ڈی ایف) نے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے حکم پرایک بارپھرغزہ پٹی میں زبردست فضائی حملہ کیا۔ اس حملے میں 250 سے زائد فلسطینی مارے گئے تھے۔

ہوم لینڈ سیکیورٹی کے محکمے نے رنجنی کا ویزہ رد کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ وہ ’’حماس کی حمایت کرنے والی سرگرمیوں میں ملوث تھی‘‘۔ لیکن محکمے نے ان سرگرمیوں کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

’’عرب منصوبے‘‘ کے تحت اسرائیل اورحماس کے درمیان غزہ میں جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ پرحکومت کے لیے آزاد اور پیشہ ور فلسطینی ٹیکنوکریٹس پرمبنی ایک انتظامی کمیٹی کے قیام کی تجویزپیش کی گئی ہے۔

مسجد الاقصیٰ میں جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لئے ہجوم امنڈ پڑا۔ بڑی تعداد میں لوگ مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے پہنچے۔ ویسٹ بینک سے بھی لوگوں نے کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد یہاں نماز جمعہ ادا کی۔

حماس نے اجلاس کے فیصلوں کو فلسطینی کاز کے لئے مثبت قدم قراردیا اور عرب ممالک سے کہا کہ وہ اس منصوبے کی کامیابی کے لئے عملی اقدامات کریں۔ حماس کا کہنا ہے کہ ہم عرب لیڈران کے اس موقف کی قدرکرتے ہیں، جوفلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی مخالفت کرتا ہے۔

جنگ بندی کا پہلا مرحلہ یکم مارچ کومکمل ہونے والا ہے۔ تاہم جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اتوارکے روزاسرائیلی فوج نے اسی سلسلے میں کارروائیوں میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔

منگل (4 فروری) کو ایک حیران کن بیان میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ جنگ زدہ غزہ کی پٹی پر قبضہ کر کے اسے معاشی طور پر دوبارہ ترقی دے گا۔

رفح بارڈر کراسنگ کے دوبارہ کھلنے کے بعد زخمی فلسطینیوں کے پہلے گروپ کو غزہ سے مصر لے جایا گیا۔ یہ مصر اور غزہ پٹی کے درمیان واحد کراسنگ ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ سے 50 مریض طبی امداد کے لیے کراسنگ کے ذریعے مصر پہنچے ہیں۔ غزہ کے لوگ رفح کراسنگ کو ’دنیا کا گیٹ وے‘ کہتے ہیں۔ یہ مئی 2024 سے شہریوں کے لیے بند تھا۔