Bharat Express DD Free Dish

Pakistan

پاکستانی وفد کی مداخلت کے جواب میں آجاکیہ نے کہا کہ ان کی جانب سے پیش کیے گئے نکات ان کے مطابق دستاویزی معلومات پر مبنی ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے پاکستان میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے جواب دہی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔اپنے خطاب میں اجاکیا نے پاکستان کے سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا صوبوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق الزامات اٹھائے۔

کانگریس لیڈر عمران مسعود نے کہا کہ مذہبی مقام کہیں کا بھی ہو، اسے توڑنا افسوسناک ہے۔ یہ ایسے مذہبی مقامات ہیں جو ملکوں کے وجود میں آنے سے پہلے کے ہیں، انہیں منہدم کرنا مکمل طور پر غیر آئینی ہے۔

سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین گوہر علی خان نے کہا کہ 18 اگست کو سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے حکم پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی نے توہین عدالت کی درخواست پر فوری سماعت کی اپیل کی تھی۔

پاکستانی حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائرکی تھی، جسے سپریم کورٹ نے مسترد کردیا تھا۔ شہبازشریف حکومت کا موقف تھا کہ یہ قانون کے خلاف ہے۔

نئے قانون سے عاصم منیر کے فوجی اختیارات اورکمان کا دائرہ مزید مضبوط ہوگا۔ ان کے پاس فوجی اہلکاروں کو ریٹائر، ڈسچارج یا برخاست کرنے کا بھی اختیارہوگا۔ نئے قانون کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسیز کو پاکستانی وزیراعظم کا قومی سلامتی، دفاع اور تینوں افواج سے متعلق معاملات میں اہم فوجی مشیربھی مقرر کیا گیا ہے۔

پریس بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی سے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے علاقائی اثرات اور ممکنہ خطرات کے بارے میں سوالات کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ خطے کے ممالک اپنی سکیورٹی کے بارے میں سوچنے کے انداز میں تبدیلی لا رہے ہیں۔

یہ معاہدہ سعودی عرب میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردگان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران طے پایا۔ یہ دفاعی پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب نے ایران سے متعلق جاری تنازع کے دوران متعدد حملوں کا سامنا کرنے کے بعد اپنی سکیورٹی شراکت داریوں کو مزید وسیع کرنے کی کوشش تیز کر دی ہے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کو کنٹینرز سے بند کر دیا گیا ہے، جس سے اقتدار کی تبدیلی کی قیاس آرائیوں کو ہوا ملتی ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملک کے سب سے بڑے گھوٹالے اور نظام کے خاتمے کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنی ہی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ آرمی چیف عاصم منیر کی حمایت کی بدولت شہباز شریف کی کرسی خطرے میں نظر آنے لگی ہے۔

بلوچ وائس فار جسٹس نے بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان واقعات کا فوری نوٹس لیں، آزادانہ تحقیقات کرائیں اور متاثرین و ان کے اہل خانہ کو انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

جموں وکشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا- ایل اوسی کے اس پارسے جو تصاویر سامنے آرہی ہیں وہ دل کو تکلیف دینے والی ہیں۔ پُرامن مظاہرین پرطاقت کا استعمال کیا جانا مایوس کن ہے۔