Bharat Express DD Free Dish

Pakistan

پولیس افسر طارق حبیب نے بدھ کی دیر رات مقامی میڈیا کو بتایا کہ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کی، جس میں آٹھ دہشت گرد مارے گئے جبکہ چھ دیگر زخمی ہوئے۔

ڈاکٹر عینات وِلف نے وزیر اعظم نریندر مودی کی عالمی مقبولیت اور بھارت کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی کردار کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، اسرائیل میں عمومی طور پر بھارت اور خاص طور پر وزیر اعظم مودی کی قیادت کے بارے میں بہت اچھی رائے پائی جاتی ہے۔

اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ چھ معمولی زخمیوں کا موقع پر ہی علاج کیا گیا اور اس کے بعد انہیں گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انتظامی حراست کے اختیارات کے مبینہ بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے پاکستانی حکام سے تینوں افراد کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ تنظیم نے یہ بھی کہا کہ حکومت ایسے قوانین کا استعمال ان افراد کے خلاف بند کرے جو اظہارِ رائے کی آزادی، پُرامن اجتماع اور شخصی آزادی جیسے اپنے بنیادی حقوق استعمال کر رہے ہیں۔

پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران صحت کی سہولیات سے جڑے ایچ آئی وی انفیکشن کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ ان میں 2019 میں سندھ کے رتوڈیرو میں پیش آنے والا بڑا ایچ آئی وی سانحہ نمایاں ہے، جہاں مبینہ طور پر آلودہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال سے سیکڑوں بچے اس بیماری میں مبتلا ہو گئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق بلوچستان کے متعدد علاقوں میں موسلا دھار بارش اور آندھی کے باعث کچے مکانات کو نقصان پہنچا، جبکہ درخت اور اشتہاری بورڈ بھی اکھڑ گئے۔ خراب موسم کے باعث کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر رہی۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کے مطابق، حادثہ دانا سر علاقے میں ہوا، جو بلوچستان اورخیبرپختونخوا صوبوں کی سرحد کے پاس کا یہ ایک ناقابل رسائی علاقہ ہے۔

پاکستان کی اڈیالہ جیل، جہاں سابق وزیراعظم عمران خان کو رکھا گیا ہے، ایک بارپھرخبروں میں ہے۔ خبروں کے مطابق، 14 قیدی عدالت سے واپسی کے دوران پولیس وین سے فرارہوگئے۔ چارکودوبارہ پکڑلیا گیا ہے، جبکہ پولیس اورسیکورٹی ادارے باقی قیدیوں کی تلاش کے لئے سرچ آپریشن کررہے ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور جمہوری قوتوں سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان کی صورتحال پر مؤثر آواز بلند کریں اور مہرنگ بلوچ سمیت دیگر بلوچ لیڈران کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے فعال کردار ادا کریں۔

فریبہ بلوچ نے فیصلے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسانی وقار اور انصاف کے لیے آواز بلند کرنے والی ایک عالمی سطح کی کارکن کو عمر قید کی سزا سنایا جانا تشویشناک ہے۔