Bharat Express DD Free Dish

Pakistan

پریس بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی سے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے علاقائی اثرات اور ممکنہ خطرات کے بارے میں سوالات کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ خطے کے ممالک اپنی سکیورٹی کے بارے میں سوچنے کے انداز میں تبدیلی لا رہے ہیں۔

یہ معاہدہ سعودی عرب میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردگان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران طے پایا۔ یہ دفاعی پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب نے ایران سے متعلق جاری تنازع کے دوران متعدد حملوں کا سامنا کرنے کے بعد اپنی سکیورٹی شراکت داریوں کو مزید وسیع کرنے کی کوشش تیز کر دی ہے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کو کنٹینرز سے بند کر دیا گیا ہے، جس سے اقتدار کی تبدیلی کی قیاس آرائیوں کو ہوا ملتی ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملک کے سب سے بڑے گھوٹالے اور نظام کے خاتمے کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنی ہی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ آرمی چیف عاصم منیر کی حمایت کی بدولت شہباز شریف کی کرسی خطرے میں نظر آنے لگی ہے۔

بلوچ وائس فار جسٹس نے بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان واقعات کا فوری نوٹس لیں، آزادانہ تحقیقات کرائیں اور متاثرین و ان کے اہل خانہ کو انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

جموں وکشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا- ایل اوسی کے اس پارسے جو تصاویر سامنے آرہی ہیں وہ دل کو تکلیف دینے والی ہیں۔ پُرامن مظاہرین پرطاقت کا استعمال کیا جانا مایوس کن ہے۔

پولیس افسر طارق حبیب نے بدھ کی دیر رات مقامی میڈیا کو بتایا کہ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کی، جس میں آٹھ دہشت گرد مارے گئے جبکہ چھ دیگر زخمی ہوئے۔

ڈاکٹر عینات وِلف نے وزیر اعظم نریندر مودی کی عالمی مقبولیت اور بھارت کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی کردار کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، اسرائیل میں عمومی طور پر بھارت اور خاص طور پر وزیر اعظم مودی کی قیادت کے بارے میں بہت اچھی رائے پائی جاتی ہے۔

اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ چھ معمولی زخمیوں کا موقع پر ہی علاج کیا گیا اور اس کے بعد انہیں گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انتظامی حراست کے اختیارات کے مبینہ بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے پاکستانی حکام سے تینوں افراد کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ تنظیم نے یہ بھی کہا کہ حکومت ایسے قوانین کا استعمال ان افراد کے خلاف بند کرے جو اظہارِ رائے کی آزادی، پُرامن اجتماع اور شخصی آزادی جیسے اپنے بنیادی حقوق استعمال کر رہے ہیں۔

پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران صحت کی سہولیات سے جڑے ایچ آئی وی انفیکشن کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ ان میں 2019 میں سندھ کے رتوڈیرو میں پیش آنے والا بڑا ایچ آئی وی سانحہ نمایاں ہے، جہاں مبینہ طور پر آلودہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال سے سیکڑوں بچے اس بیماری میں مبتلا ہو گئے تھے۔