پاکستان کے سیکریٹری خارجہ کا 15 سال بعد بنگلہ دیش دورہ
ڈھاکہ: بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان بڑھتی قربتیں ایک بار پھر دیکھنے کو ملیں۔ پاکستان کی سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ دفتر خارجہ سے مشاورت (FOC) کے لیے بدھ کو ڈھاکہ پہنچیں۔ ایف او سی کا انعقاد 15 سال کے وقفے کے بعد ہو رہا ہے۔ دونوں جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات جمعرات کے روز اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس ’پدما‘ میں ہوں گے۔ میزبان وفد کی قیادت بنگلہ دیش کے سیکرٹری خارجہ جسیم الدین کریں گے۔
بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا، ’’دونوں فریقوں کے درمیان دو طرفہ مسائل کی مکمل رینج پر بات چیت متوقع ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ بات چیت کافی عرصے بعد ہو رہی ہے اس لیے کوئی خاص ایجنڈا طے نہیں کیا گیا ہے۔ بات چیت کے دوران باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں کا احاطہ کیے جانے کا امکان ہے۔
مختلف تاریخی وجوہات کی بنا پر سابق عوامی لیگ کی حکومت کے 15 سالہ دور حکومت میں ڈھاکہ اور اسلام آباد کے تعلقات کشیدہ رہے۔ بنگلہ دیش-پاکستان تعلقات میں اہم مسائل ہمیشہ 1971 کی جنگ آزادی کے دوران نسل کشی میں پاکستان کا کردار، پھنسے ہوئے اثاثوں کی واپسی اور معاوضے ہمیشہ رہے ہیں۔
پاکستانی فوج نے 1971 کی جنگ آزادی کے دوران لاکھوں لوگوں کا قتل عام کیا اور مبینہ طور پر لاکھوں بنگلہ دیشی خواتین کی عصمت دری کی۔ حالانکہ، اگست 2024 میں چیف ایڈوائزر محمد یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت کے قیام کے بعد حالات یکسر بدل گئے۔ یونس حکومت کا رویہ اسلام آباد کے حوالے سے بہت نرم رہا ہے۔
آمنہ بلوچ جمعرات کے روز ایف او سی کے بعد یونس اور خارجہ امور کے مشیر توحید حسین سے بھی ملاقات کر سکتی ہیں۔ ستمبر میں یونس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی۔ اس دوران دونوں لیڈران نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کی تھا۔
جنوری میں، ڈائریکٹر جنرل آف اینالیسس میجر جنرل شاہد امین افسر سمیت آئی ایس آئی کے چار اعلیٰ عہدے داروں نے ڈھاکہ کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے سے پاکستان اور بنگلہ دیش تعلقات میں نمایاں تبدیلی آئی۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




