Bharat Express DD Free Dish

Shahbaz Sharif

پاکستانی حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائرکی تھی، جسے سپریم کورٹ نے مسترد کردیا تھا۔ شہبازشریف حکومت کا موقف تھا کہ یہ قانون کے خلاف ہے۔

نئے قانون سے عاصم منیر کے فوجی اختیارات اورکمان کا دائرہ مزید مضبوط ہوگا۔ ان کے پاس فوجی اہلکاروں کو ریٹائر، ڈسچارج یا برخاست کرنے کا بھی اختیارہوگا۔ نئے قانون کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسیز کو پاکستانی وزیراعظم کا قومی سلامتی، دفاع اور تینوں افواج سے متعلق معاملات میں اہم فوجی مشیربھی مقرر کیا گیا ہے۔

عمر عبداللہ نے پاکستان کے اس دعوے پر سوال اٹھایا کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پانی کے مسئلے کی بات آتی ہے تو پاکستان کی یہ ہمدردی کہاں چلی جاتی ہے؟ ہماری ندیوں کے استعمال کے حق کے معاملے میں اس نے کشمیریوں کا ساتھ کیوں نہیں دیا؟ انہوں نے کہا کہ6  ندیوں میں سے بھارت نے پنجاب میں بہنے والی تین ندیاں اپنے پاس رکھیں، جبکہ جموں و کشمیرسے متعلق تین ندیاں پاکستان کے حصے میں چلی گئیں۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کو کنٹینرز سے بند کر دیا گیا ہے، جس سے اقتدار کی تبدیلی کی قیاس آرائیوں کو ہوا ملتی ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملک کے سب سے بڑے گھوٹالے اور نظام کے خاتمے کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنی ہی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ آرمی چیف عاصم منیر کی حمایت کی بدولت شہباز شریف کی کرسی خطرے میں نظر آنے لگی ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں قطراور پاکستان کی ثالثی کے درمیان امریکہ اور ایران میں بات چیت شروع ہوگئی ہے۔ اس کا اعلان قطرکے وزارت خارنہ کیا ہے۔ قطری وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حتمی معاہدے کی شرائط پربات چیت کے لیے خصوصی تکنیکی اورماہرگروپ قائم کئے گئے ہیں۔ یہ گروپ ایم اویوکے تمام پہلوؤں کا احاطہ کریں گے۔

پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے صدر شی جن پنگ کا پاکستان کی مخلصانہ امن کوششوں کی بھرپور حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے چین کی جانب سے پیش کیے گئے دور اندیش چار نکاتی منصوبے کو بھی سراہا۔

ایران اورامریکہ کے درمیان مذاکرات کا ایک نیا دورپیر کے روز(20 اپریل) اسلام آباد میں متوقع ہے۔ اطلاعات کے مطابق، دونوں ممالک کے وفود اتوار کواسلام آباد پہنچ سکتے ہیں۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز اس اعتماد کا اظہارکیا کہ دونوں فریق ایک معاہدے کے قریب ہیں۔

سعودی عرب اور قطر نے پاکستان کو 5 بلین ڈالر کی مالی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے، جس سے اس کے کمزور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے اور متحدہ عرب امارات کے 3.5 بلین ڈالر کے قرض کی ادائیگی میں مدد ملے گی۔

اسلام آباد میں ہفتہ کے روزامریکہ اورایران کے درمیان اہم بات چیت ہو رہی ہے۔ یہ مذاکرات پاکستان کی ثالثی سے چل رہی ہے۔ پاکستانی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ تقریباً دو گھنٹے تک چلی امن مذاکرات میں دونوں فریق نے رضامندی تک پہنچنے کے لئے نرم رویہ دکھایا ہے۔ مذاکرات کا اگلا دور جلد شروع ہوگا۔

اسلام آباد میں جاری امریکہ-ایران امن مذاکرات کے درمیان ایرانی وفد نے پاکستان کے وزیر اعظم شہبازشریف کے سامنے چاراہم مطالبات رکھے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے مطابق، مذاکرات کے لئے 15 دنوں کی ڈیڈ لائن طے کی گئی ہے۔ اگلے 48 گھنٹے بے حد اہم مانے جا رہے ہیں، جو طے کریں گے کہ جنگ بندی مستقل امن میں تبدیل ہوگا یا پھرکشیدگی میں دوبارہ اضافہ ہوگا۔