Bharat Express DD Free Dish

Shahbaz Sharif

پاکستانی وزیراعظم شہبازشریف نے ایران دورے کے دوران ہندوستان سے بات چیت کی پیشکش کی ہے۔ شہبازشریف نے کہا کہ کشمیر، پانی، دہشت گردی اورتجارت جیسے موضوعات کو وہ حل کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اس کے ساتھ ہی شہبازشریف نے اپنے ناپاک ارادے بتاتے ہوئے مضحکہ خیز دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگرہندوستان جارحانہ رویہ اپناتا ہے تو پاکستان جواب دینے میں پیچھے نہیں ہٹے گا۔

پاکستانی وزیر نے کہا کہ اگر ہم ماضی کے تجربات کی بات کریں، تو پلوامہ حملہ اور بالاکوٹ فضائی حملے جیسے واقعات دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی کا ثبوت ہیں۔

یہ وہی پاکستان ہے جو کل تک کہہ رہا تھا کہ کچھ نہیں ہوا اور اپنے عوام کو بے وقوف بنا کر فتح کا جشن منا رہا تھا۔ اب وہی پاکستان کہہ رہا ہے کہ نقصان ہوا ہے۔

شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ 'آج ہر طرف یہ بحث ہے کہ پاکستانی فوج نے بھارت کو کیا جواب دیا، ہماری فوج نے پٹھانکوٹ، ادھم پور اور دیگر کئی مقامات پر حملے کیے اور دشمنوں کو چھپنے کی جگہ نہیں ملی'۔

ہندوستان میں کئی اسٹریٹجک ماہرین اور سیکورٹی تجزیہ کاروں نے اس معاہدے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا، "مجھے ہندوستان اور پاکستان کی مضبوط قیادت پر بہت فخر ہے جنہوں نے اپنی طاقت، دانشمندی اور حوصلے کا استعمال کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس کشیدگی کو روکا جائے،

ہندوستان-پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اورآپریشن سندورکے بعد پاکستان کی سیاسی حالت بگڑتی جارہی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف پر دباؤ بڑھنے کے درمیان نواز شریف بحران سنبھالنے کے لئے میدان میں اتر آئے ہیں۔ انہوں نے سول ملٹری میٹنگ میں حصہ لے کرسیاسی حل تلاش کرنے پرزوردیا۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے گھر کے قریب بڑا دھماکہ ہوا ہے۔ بھارت نے پاک فوج کے پاس موجود چین اور دیگر ممالک کے کئی لڑاکا طیارے مار گرائے ہیں۔ پورا پاکستان جل رہا ہے۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ بھارت کنٹرول لائن پر کسی بھی مقام پر حملہ کر سکتا ہے،

دوسری جانب پاکستان بار بار ایٹمی جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے، جس سے صورتحال مزیدخراب ہوتی جا رہی ہے۔ اس تمام صورتحال کے درمیان پاکستان کے سابق قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے اس صورتحال پر تشویشناک بیان دیا ہے