Bharat Express DD Free Dish

Kuwait

امریکی سفارت خانے نے کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف حملوں میں حصہ لیا ہے، جن میں شہری ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ سفارت خانے کے مطابق، یہ فوجی تنازع بہت تیزی سے شدت اختیار کر سکتا ہے۔

امریکی مرکزی کمان نے کہا تھا کہ بحیرۂ عرب میں امریکی بحریہ اور فضائیہ کے وسائل ایران کے خلاف اعلان کردہ بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد اور ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والی بحری آمدورفت کو محدود کرنے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمزکے کنٹرول پر تنازعہ بتدریج بڑھتا جا رہا ہے۔ امریکہ نے ایرانی فوجی اڈوں، نگرانی کے مراکز، زیرزمین ہتھیاروں کے ڈپو اور سمندری انفراسٹرکچر پر بڑے حملے کئے ہیں۔

آئی آر جی سی نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اردن کے الازرق میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے دوران ایف-15، ایف-16 اور ایف-35 لڑاکا طیاروں کے شیلٹرز اور متعدد MQ-9 ڈرون تباہ کیے گئے۔قابل ذکر بات یہ ہےکہ  ایران کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے،

ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق آبنائے ہرمز کے اطراف کئی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ دوسری جانب ایران کی انقلابی گارڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بحرین اور کویت میں موجود متعدد امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

منظور احمد کویت سے ممبئی جانے والی پرواز کے انتظار میں ایئرپورٹ کے ٹرمینل پر موجود تھے۔ اسی دوران پیش آنے والے حملے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں ان کی موت واقع ہو گئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی خاندان کے افراد سکتے میں آ گئے اور پورے علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی۔

واقعے کے بعد کویت میں بھارتی سفارت خانے نے وہاں مقیم بھارتی شہریوں کے لیے ایڈوائزری بھی جاری کی ہے۔ سفارت خانے نے تمام بھارتیوں کو چوکس رہنے، مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کی جانب سے پیر کی صبح کویت میں موجود امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ اس واقعے کے فوراً بعد سعودی عرب نے بھی سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایران کے بار بار اور اشتعال انگیز حملوں کی شدید مذمت کی۔

ڈی جی سی اے کی ہدایت کے مطابق مخصوص شرائط کے تحت عمان اور سعودی عرب کی فضائی حدود استعمال کی جا سکتی ہے، تاہم ایئرلائنز کو ان علاقوں میں 32 ہزار فٹ سے کم بلندی پر پرواز نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران کویت کی مسلح افواج کے 67 اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ معلومات جمعہ کو کویت کے دفاعی وزارت کے ایک بریفنگ میں فراہم کی گئی۔