Bharat Express DD Free Dish

Turkey

یمن میں حوثی باغیوں کے بڑھتے حملوں سے پریشان سعودی عرب نے شام، ترکیہ اور پاکستان سے مدد مانگی، لیکن مبینہ طور پر کسی بھی ملک نے یمن میں براہِ راست زمینی جنگ میں اترنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ باب المندب کے آس پاس حوثیوں کی بڑھتی سرگرمیوں نے مشرق وسطیٰ کے طاقت کے توازن اور عالمی تجارت سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

امریکی سفارت خانے نے کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف حملوں میں حصہ لیا ہے، جن میں شہری ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ سفارت خانے کے مطابق، یہ فوجی تنازع بہت تیزی سے شدت اختیار کر سکتا ہے۔

یہ معاہدہ سعودی عرب میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردگان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران طے پایا۔ یہ دفاعی پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب نے ایران سے متعلق جاری تنازع کے دوران متعدد حملوں کا سامنا کرنے کے بعد اپنی سکیورٹی شراکت داریوں کو مزید وسیع کرنے کی کوشش تیز کر دی ہے۔

امریکہ کے سینئر قانون سازوں اور پالیسی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ترکیہ مسلسل جمہوری طرزِ حکمرانی سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ آئندہ ماہ انقرہ میں ہونے والے اہم نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل سیاسی جبر، عدلیہ کی آزادی اور اپوزیشن لیڈران کی گرفتاریوں پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔

وزیر داخلہ امت شاہ نے ترکیہ سے بدنام زمانہ منشیات اسمگلر محمد سلیم ڈولا کی بھارت حوالگی پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی ڈرگ مافیا کے خلاف ”زیرو ٹالرینس“ پالیسی پوری مضبوطی کے ساتھ جاری ہے اور اب جرائم پیشہ عناصر دنیا کے کسی بھی کونے میں چھپ کر نہیں بچ سکتے۔ انہوں نے اس کامیاب کارروائی پر نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی بھرپور تعریف کی۔

موہوزی کینروگابا نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو نہ صرف سفارتی تعلقات منقطع کر دیے جائیں گے بلکہ ترک ایئرلائنز پر بھی پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے، جہاں ماہرین اسے غیر سنجیدہ اور سفارتی اصولوں کے منافی قرار دے رہے ہیں۔

فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ کیا سفارت خانہ کو نشانہ بنایا گیا تھا؟ مقامی لوگوں کے مطابق، سفارت خانہ کم ازکم دوسال سے بند ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ میں تین افراد ہلاک اوردو پولیس اہلکارزخمی ہوئے ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ فوجی حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ایران نے جواباً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، ترکی اور آذربائیجان سمیت کئی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ تاہم سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ جب ان ممالک میں امریکی فوجی بیس نہیں تھے تو ایران نے انہیں نشانہ کیوں بنایا؟

ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں ایران بھی سخت موقف اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جمعہ کے روز استنبول میں کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن وہ کسی قسم کی دھمکی یا دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری سے متعلق کسی بھی اقدام کے لیے امریکہ کی حمایت ضروری ہے۔ اس دوران اسرائیل اور صومالی لینڈ نے اعلان کیا ہے کہ ان کے تعلقات ابراہم معاہدوں کی روح کے مطابق استوار ہو رہے ہیں۔ اسرائیل کے علاوہ صومالی لینڈ کے صرف تائیوان کے ساتھ باضابطہ تعلقات ہیں۔