Bharat Express DD Free Dish

Turkey

انفو انڈیا کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں ہندوستان سے قریب 2.50 لاکھ سیاحوں نے آذربائیجان کا سفر کیا تھا۔ اگر ترکیہ کی بات کریں تو تقریباً 3 لاکھ ہندوستانی سیاح وہاں گئے تھے۔

ٹریومنٹ کے سی ای او آلوک کے سنگھ نے کہا ہے کہ "پاکستان، ترکی اور آذربائیجان جیسے ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کی وجہ سے، ہم نے ٹریومنٹ میں ایک مضبوط اور ذمہ دارانہ موقف اختیار کیا ہے۔ ہم نے ترکی اور آذربائیجان کے بائیکاٹ کے ہندوستانیوں کی کال کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔"

ہندوستان  کے آپریشن سندور پر امریکہ، اسرائیل اور یورپی ممالک نے واقعہ کو ایک درست اور تحمل سے بھرپور قدم قرار دیا اور اس کی تعریف کی۔ ہندوستان  نے واضح کیا کہ یہ حملے کسی پاکستانی شہری، فوجی یا اقتصادی اسٹیبلشمنٹ پر نہیں تھے۔ صرف جیش محمد، لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین کے مضبوط ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اردوغان نے کہا کہ احتجاج کے دوران پولیس افسران کی املاک کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کی ذمہ دار حزب اختلاف کی مرکزی جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا کھیل بالآخر ختم ہو جائے گا۔

ریپبلکن پیپلز کا دعویٰ ہے کہ گرفتاری سیاسی طور پر محرک ہے۔ امام اوغلو کو 2028 کے صدارتی انتخابات میں اردوغان کو چیلنج کرنے والا سب سے مضبوط امیدوار سمجھا جاتا تھا۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ حکومت انہیں انتخابی دوڑ سے ہٹانا چاہتی ہے۔ ترک حکومت اور عدلیہ نے سیاسی مداخلت کی تردید کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عدالت نے فیصلہ آزادانہ طور پر لیا اور بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائی ضروری تھی۔

استنبول میں مظاہرین نے بلدیہ کی عمارت کے سامنے جمع ہوکر "انصاف اور جمہوریت" کے نعرے لگائے، جبکہ پولیس نے احتجاج کو روکنے کے لیے واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ اطلاعات کے مطابق، کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر ترک صدر رجب طیب اردوغان کے موقف میں تبدیلی کی وجہ سے ہندوستان نے ترکیہ کے دعوے کی مخالفت نہیں کی۔ دوسری جانب بھارت کے سخت موقف کی وجہ سے پاکستان کی برکس میں شمولیت کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔

متحدہ عرب امارات کے انٹیلی جنس اور سیکورٹی حکام نے ربی کے لاپتہ ہونے کے تین دن بعد 24 نومبر کو کوگن کی لاش برآمد کی تھی۔ اس کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے کہا تھا کہ کوگن کا قتل ’یہود مخالف دہشت گردی کے گھناؤنے واقعے‘ کا حصہ ہے۔

اسرائیلی صدر آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں جاری کوپ  29 موسمیاتی سربراہی اجلاس میں جانے کے لیے ترکی کی فضائی حدود استعمال کرنا چاہتے تھے۔ لیکن ترکی نے ان کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔

گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اردوغان نے کشمیر کے بارے میں کہا تھا کہ ’’اگر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعاون اور بات چیت سے کشمیر میں امن آئے گا تو اس سے جنوب میں امن آئے گا، ایشیا میں امن، استحکام اور خوشحالی کی راہیں کھلیں گی۔