ترکیہ کے سب سے بڑے شہر استنبول کے میئر اکرم امام اوغلو کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ تیزی سے پھیل گیا ہے۔ اکرم امام اوغلو کو بدھ کے روز بدعنوانی اور دہشت گرد گروہ PKK/KCK کی مدد کے الزامات میں حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد سے استنبول، انقرہ اور ازمیر سمیت کئی شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ مظاہرین اس گرفتاری کو صدر رجب طیب اردوغان کی حکومت کی جانب سے سیاسی انتقام کا حربہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام قانون کے مطابق اور شواہد کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے۔
Turkiye#Istanbul#Turkiye pic.twitter.com/o7HU1tBNkp
— Irr Faan (@IA_Sheikh97) March 23, 2025
استنبول میں مظاہرین نے بلدیہ کی عمارت کے سامنے جمع ہوکر “انصاف اور جمہوریت” کے نعرے لگائے، جبکہ پولیس نے احتجاج کو روکنے کے لیے واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ اطلاعات کے مطابق، کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ حکومت نے عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے، لیکن اس کے باوجود لوگ سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔ انقرہ اور استنبول میں انٹرنیٹ سروسز میں خلل کی بھی اطلاعات ہیں، جسے حزبِ اختلاف نے احتجاج کو دبانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ترک وزیر انصاف یلماز تونج نے کہا کہ اکرم امام اوغلو کے خلاف تحقیقات میں مالیاتی جرائم کے ادارےکی رپورٹس، آڈٹ رپورٹس اور گواہوں کے بیانات شامل ہیں، اور کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔ دوسری جانب، اپوزیشن رہنماؤں کا موقف ہے کہ یہ گرفتاری 2028 کے صدارتی انتخابات سے قبل اکرم کو سیاسی طور پر کمزور کرنے کی سازش ہے، کیونکہ وہ اردوغان کے مضبوط حریف کے طور پر ابھر رہے تھے۔
Kemalistler #sydney Town Hall’da toplanmış. Bu dünyada her şey sırayla… Zamanında biz Kürtler buralarda toplanırdık, belki yanımızda gerçek demokrasiyle dalga geçerlerdi. Size dokunana kadar demokrasi lazım değildi, değil mi? #ekrenimamoğluyalnızdegildir #ekrenimamoğlu pic.twitter.com/ZL09FRq5ZO
— kesoi kurt 🇮🇱🇺🇸🇦🇺🎗️☀️ (@KesoiK) March 23, 2025
استنبول کے میئر نے 2019 میں بلدیاتی انتخابات میں اردوغان کی حکمران جماعت AK پارٹی کو شکست دے کر شہرت حاصل کی تھی۔ ان کی گرفتاری کے بعد سے جاری احتجاج کو ایک دہائی سے زائد عرصے میں ترکیہ کے سب سے بڑے مظاہروں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ صورتحال ابھی تک کشیدہ ہے، اور عالمی برادری بھی ترکیہ کے سیاسی حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

