Bharat Express DD Free Dish

Recep Tayyip Erdogan

موہوزی کینروگابا نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو نہ صرف سفارتی تعلقات منقطع کر دیے جائیں گے بلکہ ترک ایئرلائنز پر بھی پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے، جہاں ماہرین اسے غیر سنجیدہ اور سفارتی اصولوں کے منافی قرار دے رہے ہیں۔

امریکہ نے ایک ’بین الاقوامی استحکامی فورس‘ تعینات کرنے اور عبوری مرحلے کے دوران غزہ میں نظم و نسق، سلامتی اور تعمیر نو کی کوششوں کے تال میل کے لیے ایک اعلیٰ نمائندہ مقرر کرنے کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔

پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے 40 منٹ تک انتظارکیا۔ وہ کرسی پرمسلسل بیٹھے رہے، لیکن پوتن نہیں آئے۔ کافی انتظار کے بعد وہ ولادیمیرپوتن-رجب طیب اردغان کی میٹنگ میں زبردستی گھس گئے، جس کے بعد ان کا ویڈیو وائرل ہوگیا ہے۔

ترکی فضائیہ کا ایک فوجی طیارہ منگل کو جارجیا میں گر کر تباہ ہو گیا، جس میں سوار تمام 20 ترک فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے۔ واقعے کے بعد ترکی اور جارجیا نے مشترکہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ترکی نے نسل کشی کے الزام میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سمیت 37 اسرائیلی اہلکاروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ہیں۔ ترکی نے غزہ میں منظم نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام لگایا ہے۔ اسرائیل نے اسے"پبلسٹی اسٹنٹ" قراردیتے ہوئے مسترد کردیا ہے جبکہ حماس نے ترکی کے اس قدم کا خیر مقدم کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترکیہ کی نظر پاکستان کی تین قومی تیل کمپنیوں پر بھی ہے۔ وہ توانائی اور اہم معدنیات کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے طریقے تلاش کر رہا ہے۔ اپریل میں ترکش پیٹرولیم کارپوریشن اور پاکستانی فرموں کے درمیان ’مشترکہ بولی معاہدہ‘ اس سمت میں ایک قدم تھا۔

اس ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کو گہرا کرنے، شام کی تعمیر نو، اور خطے میں استحکام کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایردوان نے شام کو ایک مستحکم اور خوشحال ملک بنانے کے لیے ترکی کی حمایت کا وعدہ کیا۔

ہندوستان کے کئی ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ کا یہ قدم اس کی دوہری پالیسی کو بے نقاب کرتا ہے۔ ایک طرف وہ ہندوستان کو QUAD جیسے فورمز پر اسٹریٹجک پارٹنر کہتا ہے اور دوسری طرف پاکستان کی حمایت کرنے والے ملک کو اسلحہ فراہم کرتا ہے۔

ریپبلکن پیپلز کا دعویٰ ہے کہ گرفتاری سیاسی طور پر محرک ہے۔ امام اوغلو کو 2028 کے صدارتی انتخابات میں اردوغان کو چیلنج کرنے والا سب سے مضبوط امیدوار سمجھا جاتا تھا۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ حکومت انہیں انتخابی دوڑ سے ہٹانا چاہتی ہے۔ ترک حکومت اور عدلیہ نے سیاسی مداخلت کی تردید کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عدالت نے فیصلہ آزادانہ طور پر لیا اور بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائی ضروری تھی۔

استنبول میں مظاہرین نے بلدیہ کی عمارت کے سامنے جمع ہوکر "انصاف اور جمہوریت" کے نعرے لگائے، جبکہ پولیس نے احتجاج کو روکنے کے لیے واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ اطلاعات کے مطابق، کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔