Bharat Express DD Free Dish

Israel

امریکی سفارت خانے نے کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف حملوں میں حصہ لیا ہے، جن میں شہری ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ سفارت خانے کے مطابق، یہ فوجی تنازع بہت تیزی سے شدت اختیار کر سکتا ہے۔

حکام نے واضح کیا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے عمل کے دوران جمع کرائے گئے ہتھیار نہ تو اسرائیل اور نہ ہی کسی دوسرے فلسطینی گروہ کو منتقل کیے جائیں گے، بلکہ یہ تمام ہتھیار عبوری فلسطینی انتظامیہ کی تحویل میں رہیں گے۔

ایران کے ساتھ جاری تنازع کے درمیان بڑی تعداد میں امریکی ری فیولنگ طیارے اسرائیل پہنچ رہے ہیں۔ مسافر پروازیں متاثر ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ اسرائیل ایئرپورٹس اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ بین گورین ایئرپورٹ اپنی زیادہ سے زیادہ گنجائش تک پہنچ چکا ہے اور اب وہ ایک اور ری فیولنگ طیارے کو بھی سنبھالنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

ڈاکٹر عینات وِلف نے وزیر اعظم نریندر مودی کی عالمی مقبولیت اور بھارت کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی کردار کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، اسرائیل میں عمومی طور پر بھارت اور خاص طور پر وزیر اعظم مودی کی قیادت کے بارے میں بہت اچھی رائے پائی جاتی ہے۔

سی این این کے مطابق واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ اسرائیل کی براہِ راست شمولیت سے مغربی ایشیا میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ وہیں دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع نے ایران پر دوبارہ حملے کی تیاری کا اعلان کیا ہے۔

ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق آبنائے ہرمز کے اطراف کئی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ دوسری جانب ایران کی انقلابی گارڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بحرین اور کویت میں موجود متعدد امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی عوام اور قیادت کے خلاف کسی بھی قسم کی دھمکی یا جارحانہ اقدام کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ان کی جانب سے شیئر کی گئی پوسٹ کے مطابق، جب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز سے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کی ’موت طے ہے‘۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع بہت طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک شخص کو نشانہ بنانے کے لیے پوری عمارت کو تباہ کر دینا مناسب نہیں، کیونکہ ایسی عمارتوں میں بے گناہ افراد بھی رہتے ہیں جن کا حزب اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

ایران کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام اور اسرائیل کی تازہ فوجی کارروائیوں نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر صورتِ حال پر جلد قابو نہ پایا گیا تو تنازع مزید وسیع ہو سکتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔

وزارتِ خارجہ نے اس بات کو دہرایا کہ قطر فلسطینی مدعے اور فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت میں ثابت قدمی سے کھڑا ہے۔ قطر کا موقف ہے کہ قبضے کا خاتمہ ہونا چاہیے اور فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق ملنے چاہئیں، جن میں سب سے اہم 1967ء کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔