Bharat Express DD Free Dish

Iraq

امریکی سفارت خانے نے کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف حملوں میں حصہ لیا ہے، جن میں شہری ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ سفارت خانے کے مطابق، یہ فوجی تنازع بہت تیزی سے شدت اختیار کر سکتا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ حملے عراق کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ یہ کارروائیاں امریکہ اور صہیونی حکومت کے ان مقاصد کے مطابق ہیں جن کا ہدف مغربی ایشیا میں جنگ اور کشیدگی کو مزید بڑھانا ہے۔

اسلامی جمہوریہ نیوز ایجنسی کے مطابق تعزیتی تقریبات ہفتہ اور اتوار کو بھی جاری رہیں گی۔ اس دوران مرحوم کا جسدِ خاکی گرینڈ مصلیٰ میں عوامی دیدار کے لیے رکھا جائے گا۔ اس کے بعد پیر کے روز تہران میں جنازے کا جلوس نکالا جائے گا، جبکہ بعد کی مذہبی رسومات مقدس شہر قم میں ادا کی جائیں گی۔

عراقی آئین کے مطابق کسی بھی نئی حکومت کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے کابینہ کے نصف سے زائد وزراء کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ الزیدی کی حکومت میں کل 23 وزارتیں شامل ہونی چاہئیں، تاہم کئی اہم قلمدانوں پر سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات ابھی جاری ہیں،

ڈی جی سی اے کی ہدایت کے مطابق مخصوص شرائط کے تحت عمان اور سعودی عرب کی فضائی حدود استعمال کی جا سکتی ہے، تاہم ایئرلائنز کو ان علاقوں میں 32 ہزار فٹ سے کم بلندی پر پرواز نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں ایران کو گھیرنے کی امریکی کوششوں کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب عراق میں شیعہ اتحاد نے سابق وزیرِ اعظم نوری المالکی کے نام کو ایک بار پھر وزارتِ عظمیٰ کے لیے آگے بڑھا دیا۔ نوری المالکی کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا قریبی سمجھا جاتا ہے۔ پارلیمانی اکثریت کے پیش نظر امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ المالکی آسانی کے ساتھ عراق کے نئے وزیرِ اعظم منتخب ہو سکتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری سے متعلق کسی بھی اقدام کے لیے امریکہ کی حمایت ضروری ہے۔ اس دوران اسرائیل اور صومالی لینڈ نے اعلان کیا ہے کہ ان کے تعلقات ابراہم معاہدوں کی روح کے مطابق استوار ہو رہے ہیں۔ اسرائیل کے علاوہ صومالی لینڈ کے صرف تائیوان کے ساتھ باضابطہ تعلقات ہیں۔

وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے کہا کہ اس حملے کے پیچھے کردستان ورکرز پارٹی کا ہاتھ ہے۔ وزیر دفاع یاسر گلر نے بھی PKK پر انگلی اٹھائی۔ گلر نے کہا، ’’ہم PKK کے ان مجرموں کو ہر بار وہ سزا دیتے ہیں جس کے وہ مستحق ہیں۔ لیکن وہ کبھی اپنے ہوش میں نہیں آتے۔ ہم ان کا پیچھا تب تک کریں گے جب تک کہ آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔‘‘

یورپ پہلے ہی اپنی توانائی کی ضروریات میں کمی کے ساتھ جدوجہد کر رہا ہے، اور اگر مشرق وسطیٰ سے تیل اور گیس کی سپلائی منقطع ہو جاتی ہے تو اسے سنگین چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق پی ایم ایف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "دھماکے کی وجہ سے بیس پر موجود چیزوں کو نقصان پہنچا ہے، کچھ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں"۔