Bharat Express DD Free Dish

Saudi Arabia

یمن میں حوثی باغیوں کے بڑھتے حملوں سے پریشان سعودی عرب نے شام، ترکیہ اور پاکستان سے مدد مانگی، لیکن مبینہ طور پر کسی بھی ملک نے یمن میں براہِ راست زمینی جنگ میں اترنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ باب المندب کے آس پاس حوثیوں کی بڑھتی سرگرمیوں نے مشرق وسطیٰ کے طاقت کے توازن اور عالمی تجارت سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

امریکی سفارت خانے نے کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف حملوں میں حصہ لیا ہے، جن میں شہری ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ سفارت خانے کے مطابق، یہ فوجی تنازع بہت تیزی سے شدت اختیار کر سکتا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی شہری نے بتایا کہ ایئرپورٹ کی سمت کالا دھواں اور آگ نظر آئی۔ اسی دوران فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ ’فلا ئٹ ریڈار 24‘ کے اعداد و شمار میں بھی متعدد پروازوں کی آمد اور روانگی میں تاخیر دکھائی گئی۔ویب سائٹ پر 3.5 سے 5 کے درمیان ڈیلے انڈیکس کا مطلب طویل تاخیر اور متعدد پروازوں کی منسوخی سمیت بڑی رکاوٹوں سے ہے۔

یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے، اس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ حالیہ جھڑپوں میں تقریباً 500 افراد کے مارے جانے کی خبر ہے۔ اس کے علاوہ 3 سے 9 ستمبر کے درمیان 43 بچوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

سعودی عرب اور ایران نواز حوثی گروپ کے درمیان ایک بار پھر پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کے درمیان سعودی اتحاد نے بھی حوثی ٹھکانوں پر اپنی بمباری تیز کر دی ہے۔ تاہم حوثیوں کی جانب سے 300 سے زیادہ فضائی حملوں کے دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔اس کے باوجود حوثی قیادت نے کھلی دھمکی دی ہے کہ اگر یمن پر فضائی حملے نہیں روکے گئے تو وہ سعودی عرب کی حدود کے اندر مزید جارحانہ کارروائیاں کرے گی۔

شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے ویانا میں منعقدہ ایک کانفرنس کے دوران کہا کہ اس سلسلے میں حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ سعودی عرب کی کوشش ہے کہ قومی توانائی کے مجموعی نظام میں جوہری توانائی کو شامل کرنے کے منصوبے کو آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب مسلسل یورینیم کے نئے ذخائر تلاش کر رہا ہے اور وقت کے ساتھ حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق یورینیم کے ذریعے ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

برکس کے اندر روس-یوکرین جنگ، مغربی ایشیا کا تنازع اور عالمی سلامتی جیسے کئی اہم مسائل ہیں، جن پر تمام رکن ممالک کی سوچ یکساں نہیں ہے۔ مذاکرات کے دوران ان امور پر اختلافات بھی سامنے آئے۔ہندوستان نے صدر ملک کی حیثیت سے مختلف فریقوں کے درمیان بات چیت جاری رکھی اور مشترکہ اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی۔

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ہفتہ کی رات ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے الگ الگ بات کی۔ اس دوران دوطرفہ امور اور خطے میں تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پریس بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی سے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے علاقائی اثرات اور ممکنہ خطرات کے بارے میں سوالات کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ خطے کے ممالک اپنی سکیورٹی کے بارے میں سوچنے کے انداز میں تبدیلی لا رہے ہیں۔

حوثی گروپ نے اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور نہ ہی حملے کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصانات یا جانی نقصان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کیں۔