Explosion in Riyadh: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں دھماکے، کئی پروازیں تاخیر کا شکار، فضائی حملے کا الرٹ
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی شہری نے بتایا کہ ایئرپورٹ کی سمت کالا دھواں اور آگ نظر آئی۔ اسی دوران فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ ’فلا ئٹ ریڈار 24‘ کے اعداد و شمار میں بھی متعدد پروازوں کی آمد اور روانگی میں تاخیر دکھائی گئی۔ویب سائٹ پر 3.5 سے 5 کے درمیان ڈیلے انڈیکس کا مطلب طویل تاخیر اور متعدد پروازوں کی منسوخی سمیت بڑی رکاوٹوں سے ہے۔
Mecca Drone Attack: مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہوا حوثی ڈرون، باغیوں نے مکہ پر حملے سے کیا انکار
یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے، اس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ حالیہ جھڑپوں میں تقریباً 500 افراد کے مارے جانے کی خبر ہے۔ اس کے علاوہ 3 سے 9 ستمبر کے درمیان 43 بچوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
Houthi Missile Attack: حوثی حملوں میں 13 افراد زخمی، سعودی عرب کے کئی شہروں میں ایمرجنسی الرٹ
سعودی عرب اور ایران نواز حوثی گروپ کے درمیان ایک بار پھر پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کے درمیان سعودی اتحاد نے بھی حوثی ٹھکانوں پر اپنی بمباری تیز کر دی ہے۔ تاہم حوثیوں کی جانب سے 300 سے زیادہ فضائی حملوں کے دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔اس کے باوجود حوثی قیادت نے کھلی دھمکی دی ہے کہ اگر یمن پر فضائی حملے نہیں روکے گئے تو وہ سعودی عرب کی حدود کے اندر مزید جارحانہ کارروائیاں کرے گی۔
Uranium Found in Medina: مدینہ کی سرزمین میں یورینیم کا بڑا ذخیرہ دریافت، سعودی عرب کو ملا 110 ملین ٹن یورینیم والے خام معدنیات کا خزانہ
شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے ویانا میں منعقدہ ایک کانفرنس کے دوران کہا کہ اس سلسلے میں حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ سعودی عرب کی کوشش ہے کہ قومی توانائی کے مجموعی نظام میں جوہری توانائی کو شامل کرنے کے منصوبے کو آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب مسلسل یورینیم کے نئے ذخائر تلاش کر رہا ہے اور وقت کے ساتھ حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق یورینیم کے ذریعے ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
BRICS Summit 2026: برکس کے مشترکہ اعلامیے پر اتفاق، ہندوستان کی بڑی سفارتی کامیابی، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان توازن بڑا چیلنج
برکس کے اندر روس-یوکرین جنگ، مغربی ایشیا کا تنازع اور عالمی سلامتی جیسے کئی اہم مسائل ہیں، جن پر تمام رکن ممالک کی سوچ یکساں نہیں ہے۔ مذاکرات کے دوران ان امور پر اختلافات بھی سامنے آئے۔ہندوستان نے صدر ملک کی حیثیت سے مختلف فریقوں کے درمیان بات چیت جاری رکھی اور مشترکہ اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی۔
Strait of Hormuz Issue: آبنائے ہرمز میں سکیورٹی سے متعلق ایران کے وزیر خارجہ کی ترکیہ اور سعودی ہم منصبوں سے فون پر بات چیت
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ہفتہ کی رات ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے الگ الگ بات کی۔ اس دوران دوطرفہ امور اور خطے میں تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
Mecca Joint Defence Agreement: ’’سہ فریقی دفاعی معاہدے معاہدے کو خطرہ سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں‘‘ ایرانی وزارت خارجہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو سراہا
پریس بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی سے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے علاقائی اثرات اور ممکنہ خطرات کے بارے میں سوالات کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ خطے کے ممالک اپنی سکیورٹی کے بارے میں سوچنے کے انداز میں تبدیلی لا رہے ہیں۔
Drone attack on Saudi-backed forces in Yemen: مغربی یمن کے موچا میں سعودی حمایت یافتہ فورسز پر میزائل اور ڈرون حملہ، حوثی گروپ نے قبول کی ذمہ داری
حوثی گروپ نے اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور نہ ہی حملے کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصانات یا جانی نقصان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کیں۔
Fire extinguished in Saudi’s Aramco: سعودی عرب کے جازان میں آرامکو کی تنصیب میں لگی آگ بجھائی گئی، اسرائیلی میڈیا نے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ حملے کے پیچھے یمن کے حوثی باغیوں کا ہاتھ
سعودی توانائی کی تنصیبات کو مبینہ طور پر نشانہ بنائے جانے کی یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے جمعہ کو ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ پر دستخط کیے ہیں۔ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں طے پانے والے اس معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور فوجی تعاون کو مضبوط بنانا اور اجتماعی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
Pak-Saudi-Turkey Defence Pact: ’’کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا‘‘ مغربی ایشیا تنازع کے درمیان پاکستان، سعودی اور ترکی نے اہم دفاعی معاہدے پر کیے دستخط
یہ معاہدہ سعودی عرب میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردگان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران طے پایا۔ یہ دفاعی پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب نے ایران سے متعلق جاری تنازع کے دوران متعدد حملوں کا سامنا کرنے کے بعد اپنی سکیورٹی شراکت داریوں کو مزید وسیع کرنے کی کوشش تیز کر دی ہے۔





