Strait of Hormuz Issue: آبنائے ہرمز میں سکیورٹی سے متعلق ایران کے وزیر خارجہ کی ترکیہ اور سعودی ہم منصبوں سے فون پر بات چیت
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ہفتہ کی رات ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے الگ الگ بات کی۔ اس دوران دوطرفہ امور اور خطے میں تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
Mecca Joint Defence Agreement: ’’سہ فریقی دفاعی معاہدے معاہدے کو خطرہ سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں‘‘ ایرانی وزارت خارجہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو سراہا
پریس بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی سے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے علاقائی اثرات اور ممکنہ خطرات کے بارے میں سوالات کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ خطے کے ممالک اپنی سکیورٹی کے بارے میں سوچنے کے انداز میں تبدیلی لا رہے ہیں۔
Drone attack on Saudi-backed forces in Yemen: مغربی یمن کے موچا میں سعودی حمایت یافتہ فورسز پر میزائل اور ڈرون حملہ، حوثی گروپ نے قبول کی ذمہ داری
حوثی گروپ نے اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور نہ ہی حملے کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصانات یا جانی نقصان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کیں۔
Fire extinguished in Saudi’s Aramco: سعودی عرب کے جازان میں آرامکو کی تنصیب میں لگی آگ بجھائی گئی، اسرائیلی میڈیا نے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ حملے کے پیچھے یمن کے حوثی باغیوں کا ہاتھ
سعودی توانائی کی تنصیبات کو مبینہ طور پر نشانہ بنائے جانے کی یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے جمعہ کو ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ پر دستخط کیے ہیں۔ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں طے پانے والے اس معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور فوجی تعاون کو مضبوط بنانا اور اجتماعی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
Pak-Saudi-Turkey Defence Pact: ’’کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا‘‘ مغربی ایشیا تنازع کے درمیان پاکستان، سعودی اور ترکی نے اہم دفاعی معاہدے پر کیے دستخط
یہ معاہدہ سعودی عرب میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردگان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران طے پایا۔ یہ دفاعی پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب نے ایران سے متعلق جاری تنازع کے دوران متعدد حملوں کا سامنا کرنے کے بعد اپنی سکیورٹی شراکت داریوں کو مزید وسیع کرنے کی کوشش تیز کر دی ہے۔
Iran US Crisis: ٹرمپ کا ایران سے نئی بات چیت کا اعلان، خلیجی ممالک کی ثالثی کی کوششیں تیز
صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ نے ایران پر مجوزہ فوجی حملہ مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے کیونکہ تہران اور مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک نے اس کارروائی کو روکنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ معاہدے کا ابتدائی خاکہ تیار کر لیا گیا ہے۔ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ مکمل طور پر کارروائی کے لیے تیار تھا،
West Asia Tensions: ’’امریکہ اور سعودی عرب عراق پر حملوں کے ذریعے مغربی ایشیا میں بڑھا رہے ہیں کشیدگی…‘‘، ایران کا الزام
ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ حملے عراق کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ یہ کارروائیاں امریکہ اور صہیونی حکومت کے ان مقاصد کے مطابق ہیں جن کا ہدف مغربی ایشیا میں جنگ اور کشیدگی کو مزید بڑھانا ہے۔
Drone Attacks on Saudi Oil Facilities: سعودی تیل تنصیبات پر ڈرون حملے کی کوشش، قطر نے کی شدید مذمت
ترکی المالکی نے کہا کہ یہ حملے عراقی سرزمین سے کیے گئے اور ان کے پیچھے ایران کی حمایت یافتہ مسلح ملیشیائیں تھیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کو اپنی سلامتی اور قومی وسائل کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ مناسب جواب دینے کا اختیار رکھتا ہے۔
US-Saudi Nuclear Deal: ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونے سے مشروط ہوگا امریکی-سعودی جوہری معاہدہ، یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی: ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر کا یہ بیان امریکی اور سعودی حکام کی جانب سے اہم توانائی معاہدے کا اعلان کیے جانے کے 24 گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے ابراہیمی معاہدوں کا دائرہ وسیع کرنے کی مسلسل سفارتی کوششوں کے باوجود سعودی حکام فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق اپنے موقف پر قائم ہیں۔
Saudi Nuclear Deal: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کیلئے بڑی سفارتی کامیابی، ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ محدود حفاظتی انتظامات والے جوہری معاہدے کو دی منظوری
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے تو سعودی عرب بھی جوہری ہتھیار حاصل کرے گا۔ اسی بیان کے پیشِ نظر ماہرین کو خدشہ ہے کہ سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت فراہم کرنے سے مشرقِ وسطیٰ میں جوہری پھیلاؤ اور ہتھیاروں کی ممکنہ دوڑ کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔





