Bharat Express DD Free Dish

Saudi Arabia

سعودی توانائی کی تنصیبات کو مبینہ طور پر نشانہ بنائے جانے کی یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے جمعہ کو ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ پر دستخط کیے ہیں۔ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں طے پانے والے اس معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور فوجی تعاون کو مضبوط بنانا اور اجتماعی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔

یہ معاہدہ سعودی عرب میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردگان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران طے پایا۔ یہ دفاعی پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب نے ایران سے متعلق جاری تنازع کے دوران متعدد حملوں کا سامنا کرنے کے بعد اپنی سکیورٹی شراکت داریوں کو مزید وسیع کرنے کی کوشش تیز کر دی ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ نے ایران پر مجوزہ فوجی حملہ مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے کیونکہ تہران اور مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک نے اس کارروائی کو روکنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ معاہدے کا ابتدائی خاکہ تیار کر لیا گیا ہے۔ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ مکمل طور پر کارروائی کے لیے تیار تھا،

ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ حملے عراق کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ یہ کارروائیاں امریکہ اور صہیونی حکومت کے ان مقاصد کے مطابق ہیں جن کا ہدف مغربی ایشیا میں جنگ اور کشیدگی کو مزید بڑھانا ہے۔

ترکی المالکی نے کہا کہ یہ حملے عراقی سرزمین سے کیے گئے اور ان کے پیچھے ایران کی حمایت یافتہ مسلح ملیشیائیں تھیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کو اپنی سلامتی اور قومی وسائل کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ مناسب جواب دینے کا اختیار رکھتا ہے۔

امریکی صدر کا یہ بیان امریکی اور سعودی حکام کی جانب سے اہم توانائی معاہدے کا اعلان کیے جانے کے 24 گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے ابراہیمی معاہدوں کا دائرہ وسیع کرنے کی مسلسل سفارتی کوششوں کے باوجود سعودی حکام فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق اپنے موقف پر قائم ہیں۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے تو سعودی عرب بھی جوہری ہتھیار حاصل کرے گا۔ اسی بیان کے پیشِ نظر ماہرین کو خدشہ ہے کہ سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت فراہم کرنے سے مشرقِ وسطیٰ میں جوہری پھیلاؤ اور ہتھیاروں کی ممکنہ دوڑ کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال اور امریکی فوجی کارروائی کے بعد پیدا ہونے والے حالات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے موجودہ حالات پر اپنے اپنے مؤقف سے آگاہ کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے کی صورتحال پر آئندہ بھی مشاورت جاری رکھی جائے گی۔

ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق آبنائے ہرمز کے اطراف کئی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ دوسری جانب ایران کی انقلابی گارڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بحرین اور کویت میں موجود متعدد امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

فرانس کے شہرٹامبلین میں ایک بڑا طیارہ حادثہ پیش آیا، جہاں پیراشوٹ ٹریننگ اسکول کا طیارہ گرنے سے 11 افراد ہلاک ہوگئے۔ سعودی عرب کے رات تنورا میں ایک ہیلی کاپٹر تباہ ہونے سے کم ازکم 14 افراد کی موت ہوگئی۔ دونوں حادثوں میں مجموعی طور پر 25 افراد ہلاک ہوگئے۔