Bharat Express DD Free Dish

Saudi Arabia

آج مکہ مکرمہ میں لاکھوں انسان موجود ہیں، لیکن وہاں کسی کی پہچان دولت، لباس یا عہدے سے نہیں بلکہ بندگی اور عاجزی سے ہو رہی ہے۔ شاید یہی حج کا سب سے بڑا پیغام بھی ہے — انسانیت، مساوات، صبر، قربانی اور اپنے رب کے سامنے مکمل سپردگی۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات امریکہ کے اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم اب ان دونوں ممالک نے ایران جنگ میں الجھے ہوئے امریکہ کو دھمکیاں دینا شروع کردی ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے امریکی خزانے سے 15 ارب ڈالرنکال لئے ہیں، جس کے امریکی معیشت پرتباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی دونوں نے کھل کرایران پر مزید حملوں کی مخالفت کی ہے۔

ٹرمپ نے اتوار کے روز سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور انہیں جلد فیصلہ کرنا ہوگا، ورنہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا۔ وقت بہت قیمتی ہے۔

سعودی عرب نے آبنائے ہرمزمیں پروجیکٹ فریڈم کو روکنے کے لئے امریکہ پردباؤڈالا۔ سعودی عرب نے اعلان کیا کہ "آپ ایران سے لڑنے کے لئے ہمارے اڈے استعمال نہیں کر سکتے اورنہ ہی ہم اپنی فضائی حدود کو ٹیک آف کے لئے استعمال کرنے دیں گے۔"

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ این بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے اس آپریشن میں شامل امریکی طیاروں کو ریاض کے جنوب مشرق میں واقع پرنس سلطان ایئربیس استعمال کرنے یا اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔

یہ روہنگیا افراد دراصل میانمار میں جاری بدامنی اور فوجی کارروائیوں کے بعد اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئے تھے۔ ان میں سے بڑی تعداد بنگلہ دیش منتقل ہوئی، جبکہ ہزاروں افراد روزگار کی تلاش میں سعودی عرب چلے گئے۔ تاہم قانونی دستاویزات نہ ہونے کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا تھا۔ اب سعودی عرب کی مداخلت کے بعد ان افراد کو باضابطہ دستاویزات فراہم کی گئی ہیں، جس سے ان کی زندگی میں استحکام آنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

بھارت سے حج 2026 کا باضابطہ آغاز 18 اپریل سے ہونے جا رہا ہے، جس کے تحت حجاج کرام کا پہلا قافلہ ملک کے مختلف امبارکیشن پوائنٹس سے سعودی عرب روانہ ہوگا۔ وزارت خارجہ کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق اس سال مجموعی طور پر 1,75,025 عازمین حج کے اس مقدس سفر پر روانہ ہونے کی توقع ہے۔

سعودی عرب اور قطر نے پاکستان کو 5 بلین ڈالر کی مالی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے، جس سے اس کے کمزور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے اور متحدہ عرب امارات کے 3.5 بلین ڈالر کے قرض کی ادائیگی میں مدد ملے گی۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی میزبانی میں امریکہ اورایران کے درمیان جنگ بندی کے لئے مذاکرات کے لئے دونوں ممالک کے وفد پہنچ چکے ہیں۔ اسی دوران سعودی عرب کے وزیر خارجہ بھی پاکستان میں ہیں۔ جمعہ کے روز انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم سے ملاقات کی۔

حاجی محمد ایوب سیوہاروی ویلفیئر آرگنائزیشن کی جانب سے گذشتہ اکیس برسوں سے لاکھوں حجاج میں تحائف کی تقسیم کیے گئے۔ اس سال بھی یہ سلسلہ جاری ہے اور مختلف کمپنیوں کی جانب سے اب تک 3,14,213 (تین لاکھ چودہ ہزار دو سو تیرہ) گفٹ آرگنائزیشن کو موصول ہو چکے ہیں اور یہ تعداد مزید بڑھنے کی توقع ہے۔