Iran US Crisis: ٹرمپ کا ایران سے نئی بات چیت کا اعلان، خلیجی ممالک کی ثالثی کی کوششیں تیز
صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ نے ایران پر مجوزہ فوجی حملہ مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے کیونکہ تہران اور مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک نے اس کارروائی کو روکنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ معاہدے کا ابتدائی خاکہ تیار کر لیا گیا ہے۔ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ مکمل طور پر کارروائی کے لیے تیار تھا،
West Asia Tensions: ’’امریکہ اور سعودی عرب عراق پر حملوں کے ذریعے مغربی ایشیا میں بڑھا رہے ہیں کشیدگی…‘‘، ایران کا الزام
ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ حملے عراق کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ یہ کارروائیاں امریکہ اور صہیونی حکومت کے ان مقاصد کے مطابق ہیں جن کا ہدف مغربی ایشیا میں جنگ اور کشیدگی کو مزید بڑھانا ہے۔
Drone Attacks on Saudi Oil Facilities: سعودی تیل تنصیبات پر ڈرون حملے کی کوشش، قطر نے کی شدید مذمت
ترکی المالکی نے کہا کہ یہ حملے عراقی سرزمین سے کیے گئے اور ان کے پیچھے ایران کی حمایت یافتہ مسلح ملیشیائیں تھیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کو اپنی سلامتی اور قومی وسائل کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ مناسب جواب دینے کا اختیار رکھتا ہے۔
US-Saudi Nuclear Deal: ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونے سے مشروط ہوگا امریکی-سعودی جوہری معاہدہ، یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی: ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر کا یہ بیان امریکی اور سعودی حکام کی جانب سے اہم توانائی معاہدے کا اعلان کیے جانے کے 24 گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے ابراہیمی معاہدوں کا دائرہ وسیع کرنے کی مسلسل سفارتی کوششوں کے باوجود سعودی حکام فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق اپنے موقف پر قائم ہیں۔
Saudi Nuclear Deal: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کیلئے بڑی سفارتی کامیابی، ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ محدود حفاظتی انتظامات والے جوہری معاہدے کو دی منظوری
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے تو سعودی عرب بھی جوہری ہتھیار حاصل کرے گا۔ اسی بیان کے پیشِ نظر ماہرین کو خدشہ ہے کہ سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت فراہم کرنے سے مشرقِ وسطیٰ میں جوہری پھیلاؤ اور ہتھیاروں کی ممکنہ دوڑ کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
Middle East Tension: ایران نے پاکستان کے بعد سعودی عرب سے بھی کیا رابطہ، ٹرمپ اور نیتن یاہومیں بھی ٹیلیفونک بات چیت، ایران-امریکہ جنگ سے مشرق وسطیٰ میں حالات سنگین
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال اور امریکی فوجی کارروائی کے بعد پیدا ہونے والے حالات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے موجودہ حالات پر اپنے اپنے مؤقف سے آگاہ کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے کی صورتحال پر آئندہ بھی مشاورت جاری رکھی جائے گی۔
EU Aviation Agency Advisory: ’’ایران اور عراق کی فضائی حدود سے گریز کریں…‘‘ یورپی یونین کی ہوابازی ایجنسی کی ایئرلائنز کو ہدایت
ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق آبنائے ہرمز کے اطراف کئی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ دوسری جانب ایران کی انقلابی گارڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بحرین اور کویت میں موجود متعدد امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
Saudi-France Plane Crash: فرانس میں بڑا طیارہ حادثہ، پیرا شوٹنگ اسکول کا طیارہ تباہ، 5 طلبا سمیت 11 ہلاک، سعودی عرب میں ہیلی کاپٹر تباہ ہونے سے 14 افراد جاں بحق
فرانس کے شہرٹامبلین میں ایک بڑا طیارہ حادثہ پیش آیا، جہاں پیراشوٹ ٹریننگ اسکول کا طیارہ گرنے سے 11 افراد ہلاک ہوگئے۔ سعودی عرب کے رات تنورا میں ایک ہیلی کاپٹر تباہ ہونے سے کم ازکم 14 افراد کی موت ہوگئی۔ دونوں حادثوں میں مجموعی طور پر 25 افراد ہلاک ہوگئے۔
Hajj 2026: لاکھوں فرزندانِ اسلام مکہ مکرمہ میں جمع، حج کا روح پرور مناظر
آج مکہ مکرمہ میں لاکھوں انسان موجود ہیں، لیکن وہاں کسی کی پہچان دولت، لباس یا عہدے سے نہیں بلکہ بندگی اور عاجزی سے ہو رہی ہے۔ شاید یہی حج کا سب سے بڑا پیغام بھی ہے — انسانیت، مساوات، صبر، قربانی اور اپنے رب کے سامنے مکمل سپردگی۔
امریکہ کے خلاف سخت فیصلے لینے پرکیوں مجبور ہوئے سعودی عرب اور یواے ای، 24 گھنٹے میں 2 بڑے جھٹکوں سے اٹھے کئی سوال
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات امریکہ کے اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم اب ان دونوں ممالک نے ایران جنگ میں الجھے ہوئے امریکہ کو دھمکیاں دینا شروع کردی ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے امریکی خزانے سے 15 ارب ڈالرنکال لئے ہیں، جس کے امریکی معیشت پرتباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی دونوں نے کھل کرایران پر مزید حملوں کی مخالفت کی ہے۔





