Bharat Express DD Free Dish

Jordan

امریکی سفارت خانے نے کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف حملوں میں حصہ لیا ہے، جن میں شہری ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ سفارت خانے کے مطابق، یہ فوجی تنازع بہت تیزی سے شدت اختیار کر سکتا ہے۔

امریکی فوج نے یہ نہیں بتایا کہ ایران نے امریکی بحریہ کے کس جنگی بحری جہاز کو نشانہ بنایا تھا، حملہ کہاں ہوا اور اس میں کتنے بیلسٹک میزائل داغے گئے تھے۔ گزشتہ چار دنوں کے دوران ایرانی تیل ٹینکروں کے خلاف یہ امریکہ کی دوسری فوجی کارروائی تھی۔

امریکی مرکزی کمان نے کہا تھا کہ بحیرۂ عرب میں امریکی بحریہ اور فضائیہ کے وسائل ایران کے خلاف اعلان کردہ بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد اور ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والی بحری آمدورفت کو محدود کرنے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔

ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق آبنائے ہرمز کے اطراف کئی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ دوسری جانب ایران کی انقلابی گارڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بحرین اور کویت میں موجود متعدد امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

ڈی جی سی اے کی ہدایت کے مطابق مخصوص شرائط کے تحت عمان اور سعودی عرب کی فضائی حدود استعمال کی جا سکتی ہے، تاہم ایئرلائنز کو ان علاقوں میں 32 ہزار فٹ سے کم بلندی پر پرواز نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

بھارت بین الاقوامی فورمز پر مسلسل ضبط و تحمل، مکالمے اور پرامن حل کی اپیل کرتا رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے ایک بار پھر بھارت اور اردن کے درمیان روایتی طور پر مضبوط دوطرفہ تعلقات کو اجاگر کیا، جو باہمی احترام اور تعاون پر مبنی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری سے متعلق کسی بھی اقدام کے لیے امریکہ کی حمایت ضروری ہے۔ اس دوران اسرائیل اور صومالی لینڈ نے اعلان کیا ہے کہ ان کے تعلقات ابراہم معاہدوں کی روح کے مطابق استوار ہو رہے ہیں۔ اسرائیل کے علاوہ صومالی لینڈ کے صرف تائیوان کے ساتھ باضابطہ تعلقات ہیں۔

اردن اور عمان کے درمیان سفر کے دوران وزیراعظم مودی ایتھوپیا بھی جائیں گے، جو ان کا اس افریقی ملک کا پہلا دورہ ہوگا۔ ایتھوپیا میں وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے، جہاں وہ بھارت کو ’مدر آف ڈیموکریسی‘ کے طور پر پیش کرتے ہوئے بھارت-ایتھوپیا شراکت داری کی اہمیت اور گلوبل ساؤتھ کے لیے اس کے کردار پر روشنی ڈالیں گے۔

وزیراعظم مودی اگلے ہفتے اردن کے سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے۔ اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعلقات کو نئی بلندی دینے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل وزیراعظم مودی نے فروری 2018 میں اردن کا دورہ کیا تھا، جس کے فوراً بعد کنگ عبداللہ دوم نے فروری-مارچ 2018 میں بھارت کا دورہ کیا تھا۔

وزیر اعظم مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے جمعہ کو بھارت اور عمان کے درمیان تجویز کردہ فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) کو منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور باہمی اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔