Bharat Express DD Free Dish

Qatar

شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور راس لفان انڈسٹریل سٹی میں توانائی کی بعض تنصیبات کو براہ راست نقصان پہنچنے کے باعث قطر کی برآمدات کا ایک اہم حصہ متاثر ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بحران کا سرکاری مالیات پر منفی اثر پڑنا فطری ہے، اسی لیے 2026 کی پہلی ششماہی میں ملک کی مجموعی آمدنی میں 42 فیصد کمی درج کی گئی۔ایران کے حملوں میں قطر کے راس لفان گیس صنعتی مرکز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

امریکی سفارت خانے نے کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف حملوں میں حصہ لیا ہے، جن میں شہری ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ سفارت خانے کے مطابق، یہ فوجی تنازع بہت تیزی سے شدت اختیار کر سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ نے ایران پر مجوزہ فوجی حملہ مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے کیونکہ تہران اور مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک نے اس کارروائی کو روکنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ معاہدے کا ابتدائی خاکہ تیار کر لیا گیا ہے۔ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ مکمل طور پر کارروائی کے لیے تیار تھا،

ترکی المالکی نے کہا کہ یہ حملے عراقی سرزمین سے کیے گئے اور ان کے پیچھے ایران کی حمایت یافتہ مسلح ملیشیائیں تھیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کو اپنی سلامتی اور قومی وسائل کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ مناسب جواب دینے کا اختیار رکھتا ہے۔

قطر کے ’فادر امیر‘ کے نام سے معروف شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کا گزشتہ اتوار 74 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا۔ ان کے احترام میں بھارت حکومت نے پیر کے روز ایک روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا تھا، جس کے دوران راشٹرپتی بھون سمیت تمام سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہا۔

برطانیہ کی بحری تجارتی کارروائیوں کی نگرانی کرنے والے ادارے نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں سمندری سلامتی کو لاحق خطرات انتہائی بلند سطح پر ہیں اور انہیں ’سنگین‘ درجے میں رکھا گیا ہے۔

شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی نے 1995 سے 2013 تک قطر پر حکومت کی۔ انہیں جدید قطر کی تعمیر و ترقی کا معمار سمجھا جاتا ہے۔ ان کے دورِ حکومت میں ملک نے اقتصادی، سماجی اور ثقافتی میدانوں میں غیر معمولی ترقی کی، جس کے باعث عالمی سطح پر قطر کی شناخت اور اثر و رسوخ میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ان کی قیادت میں قطر دنیا کے خوشحال اور بااثر ممالک میں شمار ہونے لگا۔

شیخ حمد کی قیادت میں قطر نے کئی بین الاقوامی کامیابیاں حاصل کیں۔ ان میں 2006 کے ایشیائی کھیلوں کی میزبانی، 2012 کے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلی کانفرنس کا انعقاد، دوحہ معاہدہ، فتح۔حماس دوحہ معاہدہ اور 2022 فیفا عالمی کپ کی میزبانی کا حق حاصل کرنا شامل ہیں۔

ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق آبنائے ہرمز کے اطراف کئی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ دوسری جانب ایران کی انقلابی گارڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بحرین اور کویت میں موجود متعدد امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق ڈاکٹر ایس جے شنکر 5 سے 10 جولائی تک قطر، بحرین، کویت اور عمان کے سرکاری دورے پر ہیں۔ اس دورے کا مقصد ان چاروں خلیجی ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا، علاقائی پیش رفت پر تبادلۂ خیال کرنا اور باہمی دلچسپی کے امور پر تعاون کو فروغ دینا ہے