Bharat Express DD Free Dish

Qatar

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ پاکستان اور قطر کی مسلسل ثالثی کی بدولت لبنان میں جاری جنگ کے خاتمے کی جانب نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کے تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات پر عائد پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں، جب کہ آبنائے ہرمز میں عائد ناکہ بندی بھی ہٹا دی گئی ہے۔

ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق تہران کو امید ہے کہ عبوری 60 روزہ مدت کے دوران مجموعی طور پر 12 ارب امریکی ڈالر تک کے منجمد اثاثوں تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر معاہدے پر مذاکرات جاری رہیں گے۔

سوئٹزرلینڈ میں قطراور پاکستان کی ثالثی کے درمیان امریکہ اور ایران میں بات چیت شروع ہوگئی ہے۔ اس کا اعلان قطرکے وزارت خارنہ کیا ہے۔ قطری وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حتمی معاہدے کی شرائط پربات چیت کے لیے خصوصی تکنیکی اورماہرگروپ قائم کئے گئے ہیں۔ یہ گروپ ایم اویوکے تمام پہلوؤں کا احاطہ کریں گے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان قطر سمجھوتہ کرانے میں مصروف ہے۔ پردے کے پیچھے سے قطر کے وزیراعظم الثانی سمجھوتے کا ڈرافٹ تیار کرا رہے ہیں۔ اسی درمیان قطر کے نائب وزیر اعظم نے آبنائے ہرمز کے ٹول کو درست قرار دیا ہے۔ اسے آبنائے ہرمز کے نظام کے لئے ضروری قراردیا گیا ہے۔

وزارتِ خارجہ نے اس بات کو دہرایا کہ قطر فلسطینی مدعے اور فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت میں ثابت قدمی سے کھڑا ہے۔ قطر کا موقف ہے کہ قبضے کا خاتمہ ہونا چاہیے اور فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق ملنے چاہئیں، جن میں سب سے اہم 1967ء کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

محکمہ خارجہ کے مطابق، ایران اپنی برآمدات کو مختلف ممالک میں پھیلے شپنگ نیٹ ورک کے ذریعے روانہ کرتا ہے۔ بعض جہازوں پر الزام ہے کہ وہ ’غیر قانونی سرگرمیوں‘ اور دیگر خفیہ طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے ایرانی سامان کی ترسیل کر رہے تھے۔

پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حتمی مسودے کا اعلان چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔ فریقین نے کئی معاملات پر اتفاق کیا ہے۔ اب اس کا باضابطہ اعلان ہونے سے پوری دنیا کو بڑی راحت مل سکتی ہے۔

ٹرمپ نے اتوار کے روز سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور انہیں جلد فیصلہ کرنا ہوگا، ورنہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا۔ وقت بہت قیمتی ہے۔

اس کارروائی میں بھارت کی وزارت خارجہ اور سفارتی نظام کا تعاون بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ سرکاری اداروں اور کمیونٹی گروپس کے درمیان بہتر تال میل نے اس بات کو یقینی بنایا کہ مریض کو محفوظ اور باعزت طریقے سے وطن واپس بھیجا جا سکے۔

وزارت خارجہ کے مطابق قطر کا فضائی علاقہ جزوی طور پر کھول دیا گیا ہے اور قطر ایئرویز پہلے ہی بھارت کے متعدد شہروں کے لیے اپنی پروازیں چلا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالات بہتر ہونے کے ساتھ دیگر ایئرلائنز بھی مرحلہ وار اپنی خدمات بحال کر رہی ہیں۔