نئی دہلی : سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہو گیا ہے۔ دونوں ممالک نے اہم معاملات پر پیش رفت کرتے ہوئے ایک ہائی لیول کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا ہے، جو آئندہ مذاکراتی عمل کی نگرانی کرے گی۔ اس حوالے سے پاکستان اور قطر نے مشترکہ بیان بھی جاری کیا ہے، جب کہ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کا پہلا ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔
لبنان جنگ کے خاتمے کی سمت اہم پیش رفت: عباس عراقچی
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ پاکستان اور قطر کی مسلسل ثالثی کی بدولت لبنان میں جاری جنگ کے خاتمے کی جانب نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کے تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات پر عائد پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں، جب کہ آبنائے ہرمز میں عائد ناکہ بندی بھی ہٹا دی گئی ہے۔ عباس عراقچی کے مطابق ایران کے بعض منجمد اثاثے بھی بحال کر دیے گئے ہیں اور بڑے پیمانے پر تعمیرِ نو اور ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب سب سے بڑا امتحان لبنان میں قائم کیے جانے والے “ڈی کنفلیکشن سیل” کا مؤثر طریقے سے کام کرنا ہوگا۔
Tireless Pakistani and Qatari mediation has delivered major progress to end Lebanon War. Oil and petrochem exports are waived, blockade lifted, some frozen assets released, and major reconstruction & development plan launched for Iran.
1st real test: Lebanon deconfliction cell https://t.co/q0okD2qwSO
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) June 22, 2026
ہائی لیول کمیٹی کے قیام پر اتفاق
پاکستان اور قطر کے مشترکہ بیان کے مطابق “لیک لوسرن سمٹ” مثبت اور تعمیری ماحول میں منعقد ہوئی۔ اجلاس میں مستقبل کی تکنیکی بات چیت کے لیے ایک باقاعدہ نظام قائم کرنے سمیت کئی اہم پیش رفت ہوئی۔بیان میں کہا گیا کہ مفاہمتی یادداشت (MoU) کی بنیاد پر تمام فریق ایک ہائی لیول کمیٹی کے قیام پر متفق ہوئے ہیں، جو ثالثی کے پورے عمل پر سیاسی نگرانی رکھے گی۔ مرکزی مذاکرات کار اس کمیٹی کو باقاعدگی سے رپورٹ پیش کریں گے، جب کہ جوہری پروگرام، پابندیوں اور مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے مختلف ورکنگ گروپس بھی تشکیل دیے جائیں گے۔
60 دن میں حتمی معاہدے کا ہدف
مشترکہ بیان کے مطابق ہائی لیول کمیٹی نے 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس کے بعد تکنیکی سطح پر مذاکرات فوری طور پر شروع کیے جائیں گے۔اس کے علاوہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے اور کسی بھی غلط فہمی یا ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے فریقین کے درمیان براہِ راست مواصلاتی رابطہ (Communication Line) قائم کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔
لبنان میں جنگ بندی کے لیے ’ڈی کنفلیکشن سیل‘ قائم ہوگا
بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام فریق لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ایک “ڈی کنفلیکشن سیل” تشکیل دینے پر متفق ہوئے ہیں۔ یہ سیل فریقین اور لبنان کے درمیان رابطے کا کام کرے گا، جبکہ قطر اور پاکستان سمیت ثالثی کرنے والے ممالک اس عمل میں معاونت فراہم کریں گے۔تمام اہم امور پر تکنیکی مذاکرات سوئٹزرلینڈ کے برجن اسٹاک ریزورٹ میں ہفتے کے باقی دنوں میں بھی جاری رہیں گے۔
ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
قابل ذکر بات یہ ہےکہ مذاکرات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو سخت لہجے میں خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو لبنان میں ان گروہوں کی حمایت بند کرنی چاہیے جنہیں وہ مالی مدد فراہم کرتا ہے، کیونکہ وہ خطے میں مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ٹرمپ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے ایسا نہ کیا تو امریکہ ایران کے خلاف دوبارہ سخت کارروائی کرے گا، اور یہ کارروائی گزشتہ ہفتے کیے گئے حملے سے بھی زیادہ شدید ہو سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

