ذرائع کے حوالے سے خبر ہے کہ ستمبر کے آخر میں پارلیمنٹ کا 3 روزہ خصوصی اجلاس بلانے کے امکان پر بات چیت جاری ہے۔ بعض رپورٹس میں 24 سے 26 ستمبر کے درمیان اجلاس ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم ان تاریخوں کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق حکومت نے خصوصی اجلاس کا امکان کھلا رکھا ہے اور مانسون اجلاس کو ابھی باضابطہ طور پر غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی نہیں کیا گیا ہے۔
ممکنہ ایجنڈے میں کیا شامل ہوگا؟
اگر خصوصی اجلاس بلایا جاتا ہے تو حلقہ بندی اور خواتین کے ریزرویشن سے متعلق قانون سازی اہم موضوع ہوسکتی ہے۔ اپریل 2026 میں آئین کی 131ویں ترمیم کا بل پیش کیا گیا تھا۔ اس میں لوک سبھا کی زیادہ سے زیادہ نشستوں کی تعداد 550 سے بڑھا کر 850 کرنے کی تجویز تھی، جس میں ریاستوں کے لیے 815 اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے 35 نشستیں شامل کرنے کی بات کہی گئی تھی۔
اس کے ساتھ ہی حلقہ بندی سے متعلق الگ قانون اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے متعلق ترمیمی بل بھی پیش کیے گئے تھے۔ ان تجاویز کا مقصد نئی حلقہ بندی اور خواتین کے ریزرویشن کے نفاذ کے لیے قانونی راستہ تیار کرنا تھا۔
خواتین کے ریزرویشن کا معاملہ
2023 میں منظور کیے گئے آئینی ترمیمی قانون کے تحت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے تقریباً ایک تہائی نشستیں مخصوص کرنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ تاہم اس ریزرویشن کے نفاذ کو حلقہ بندی اور مردم شماری سے جوڑا گیا تھا۔ 2026 کی مجوزہ آئینی ترمیم میں اس شرط میں تبدیلی کی تجویز رکھی گئی تھی۔
اپریل میں منظور نہیں ہو سکا تھا بل
16 اپریل 2026 کو لوک سبھا میں آئین کی 131ویں ترمیم کا بل پیش کیا گیا، لیکن اگلے روز اسے آئین کے آرٹیکل 368 کے تحت درکار خصوصی اکثریت حاصل نہیں ہوسکی۔ اس کے نتیجے میں بل مسترد ہوگیا، جبکہ اس سے متعلق مرکز کے زیر انتظام علاقوں کا ترمیمی بل اور حلقہ بندی بل بھی آگے نہیں بڑھ سکے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت
حالیہ رپورٹس کے مطابق حکومت خصوصی اجلاس کے امکان کے ساتھ اپوزیشن جماعتوں سے بھی رابطے میں ہے۔ 11 ستمبر کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ حکومت برکس اجلاس کے بعد خصوصی اجلاس بلانے کے امکان پر غور کرسکتی ہے۔کانگریس صدر ملکارجن کھرگے پہلے ہی وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر حلقہ بندی کے معاملے پر کل جماعتی اجلاس بلانے اور تمام سیاسی جماعتوں و ریاستوں کو مناسب وقت دینے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔
اب اصل سوال کیا ہے؟
فی الحال 24 سے 26 ستمبر کے خصوصی اجلاس کی سرکاری تصدیق کا انتظار ہے۔ اگر اجلاس بلایا جاتا ہے تو سب سے اہم سوال یہ ہوگا کہ حکومت حلقہ بندی اور خواتین کے ریزرویشن سے متعلق تجاویز کو آگے بڑھانے کے لیے پارلیمنٹ میں درکار سیاسی اور عددی حمایت حاصل کرپاتی ہے یا نہیں۔اپریل میں آئینی ترمیمی بل کے خصوصی اکثریت حاصل نہ کر پانے کے بعد یہ معاملہ خاص طور پر اہم ہوگیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

