Bharat Express DD Free Dish

Delimitation Bill

پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق حلقہ بندی اور خواتین کے ریزرویشن سے متعلق تجاویز اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہوسکتی ہیں، تاہم حکومت نے ابھی تک خصوصی اجلاس کی تاریخوں کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔

کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے نئی دہلی میں بتایا کہ بجٹ اجلاس میں پیش کیا گیا حد بندی بل اپوزیشن کے اتحاد کی وجہ سے منظور نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے متحد ہوکر مخالفت کرنے کے باعث حکومت اپنے منصوبے کو آگے بڑھانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

میٹنگ میں شامل نہ ہونے والے اراکین پارلیمنٹ کا الزام ہے کہ وجے حکومت کاویری جل تنازعہ جیسے اہم موضوع سے لوگوں کی توجہ بھٹکانے کے لئے یہ سب کر رہی ہے۔ میٹنگ میں ڈی ایم کے کے 30، اے آئی اے ڈی ایم کے کے 4، پی ایم کے، ایم این ایم اورڈی ایم ڈی کے کے ایک ایک رکن نے شرکت نہیں کی۔

 پارلیمنٹ میں جاری تعطل کے درمیان مرکزی وزیرکرن رجیجو نے راہل گاندھی اورپرینکا گاندھی سے تقریباً 50 ملاقات کی۔ میٹنگ میں دہلی پولیس کی کارروائی، وزیرداخلہ کے بیان، حد بندی بل سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس آج سے شروع ہو رہا ہے، جہاں حکومت حلقہ بندی (ڈی لمیٹیشن) سمیت سات اہم بلوں کو منظور کرانے کی تیاری میں ہے۔ باغی اراکینِ پارلیمنٹ، دو تہائی اکثریت کے پیچیدہ حساب اور اپوزیشن کی سخت مخالفت کے درمیان یہ اجلاس نہایت اہم اور فیصلہ کن ثابت ہونے والا ہے۔

کانگریس نے آل پارٹی میٹنگ کے طریقہ کارپربھی سوال اٹھائے۔ سید ناصرحسین اورجے رام رمیش نے کہا کہ یہ میٹنگ اب صرف رسمی بن کررہ گئی ہے۔ ان کے مطابق، وہاں کئی لیڈر اپنی بات رکھتے ہیں، لیکن آخرمیں فیصلے کچھ ہی لوگ لیتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن کی رائے کوسنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔

 شرد پوار کی بیٹی سپریا سولے نے این ڈی اے میں شامل ہونے کی قیاس آرائیوں کو پوری طرح سے خارج کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی انڈیا الائنس کے ساتھ مل کرہی بڑے سیاسی فیصلے لے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حد بندی سے متعلق ابھی تک مرکزی حکومت کی طرف سے کوئی باضابطہ بل یا تجویز سامنے نہیں آئی ہے۔

کانگریس کے سینئر لیڈر پی۔ چدمبرم نے دعویٰ کیا ہے کہ بی جے پی حد بندی (Delimitation) سے متعلق آئینی ترمیمی بل کی منظوری کے لیے این سی پی (ایس پی) اور ڈی ایم کے کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

راہل گاندھی نے مرکز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’پارلیمنٹ میں جو خواتین بل پیش کیا گیا، اس کا مقصد دراصل اسے پاس کرانا نہیں تھا بلکہ اس کے ذریعے حلقہ بندی بل کو خاموشی سے منظور کروانا تھا۔ وہ ہندوستان کے انتخابی نظام کو تبدیل کرنا چاہتے تھے۔‘‘

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مزید کہا کہ بعض حلقوں میں ووٹروں کی تعداد 49 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جو جمہوری نظام کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق ایک ہی رکن پارلیمنٹ کے لیے اتنی بڑی تعداد کے ووٹروں کی نمائندگی کرنا نہایت مشکل ہو جاتا ہے، جس سے عوامی مسائل کو مؤثر طریقے سے ایوان تک پہنچانا ممکن نہیں رہتا۔