Bharat Express DD Free Dish

Women Reservation Bill

پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق حلقہ بندی اور خواتین کے ریزرویشن سے متعلق تجاویز اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہوسکتی ہیں، تاہم حکومت نے ابھی تک خصوصی اجلاس کی تاریخوں کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔

 شرد پوار کی بیٹی سپریا سولے نے این ڈی اے میں شامل ہونے کی قیاس آرائیوں کو پوری طرح سے خارج کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی انڈیا الائنس کے ساتھ مل کرہی بڑے سیاسی فیصلے لے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حد بندی سے متعلق ابھی تک مرکزی حکومت کی طرف سے کوئی باضابطہ بل یا تجویز سامنے نہیں آئی ہے۔

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 20 جولائی کوشروع ہوگا، جس میں 19 میٹنگیں ہوں گی۔ این ڈی اے کئی اہم بل خصوصی طورپر خواتین ریزرویشن سمیت کئی ترمیمی بل لائے گی۔ علاقائی پارٹی میں پھوٹ اور اسپیکر کے فیصلوں سے بھی سیاسی ماحول گرم ہونے کا امکان ہے۔

لوک سبھا میں اس آئینی ترمیمی بل کے پاس نہ ہو پانے کے بعد کانگریس نے اب جوابی حکمت عملی تیار کر لی ہے اور ملک گیر سطح پر اس مسئلے کو عوام تک لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس نے اعلان کیا ہے کہ وہ 21 اپریل کو ملک کے 29 بڑے شہروں میں بیک وقت پریس کانفرنس کرے گی، جس میں پارٹی کے سرکردہ رہنما عوام کے سامنے اپنا موقف پیش کریں گے۔

کانگریس لیڈر راگنی نائک نے الزام لگایا کہ حکومت حدبندی کو ایک ’’ہتھیار‘‘ کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور اس کے ذریعے ملک کی یکجہتی کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم مودی کے خطاب کو کانگریس کے خلاف سازش بھی کہا۔

وزیر اعظم  مودی نے مزید کہا کہ حکومت کے لیے ہمیشہ قومی مفاد سب سے اوپر رہا ہے، لیکن کچھ سیاسی جماعتوں کے لیے جماعتی مفاد قومی مفاد سے بڑا ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ خواتین ریزرویشن بل جیسے اہم معاملے پر بھی سیاست کی گئی۔

دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے احتجاج کے دوران کہا کہ گزشتہ 30 برسوں سے ملک کی نصف آبادی کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق سے متعلق بل بار بار پیش ہوتا ہے، لیکن کبھی اسے پھاڑ دیا جاتا ہے،

واضح رہے کہ 17 اپریل کو لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل پیش کیا گیا تھا، جس پر تقریباً 21 گھنٹے طویل بحث کے بعد ووٹنگ ہوئی۔ ووٹنگ میں 528 ارکان نے حصہ لیا، جن میں 298 نے بل کے حق میں جبکہ 230 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ تاہم بل کو پاس کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت یعنی 352 ووٹ درکار تھے، جس کے باعث یہ بل 54 ووٹوں سے مسترد ہو گیا۔

17 اپریل کو لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل منظور نہیں ہو سکا۔ اس بل میں پارلیمنٹ کی نشستوں کو 543 سے بڑھا کر 850 کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ تقریباً 21 گھنٹے طویل بحث کے بعد ووٹنگ ہوئی، جس میں 528 ارکان پارلیمنٹ نے حصہ لیا۔

منوج تیواری نے اپنے بیان میں ڈی ایم کے، کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ترنمول کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان جماعتوں کے لیے خواتین کو بااختیار بنانے کی باتیں محض تقریروں تک محدود ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ پارٹیاں حقیقت میں خواتین کی بڑھتی ہوئی سیاسی شمولیت سے خوفزدہ ہیں۔