Bharat Express DD Free Dish

Women Reservation Bill

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل پر جاری بحث کے دوران کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ وزیر اعظم نے آج ایوان میں اس موضوع کا ذکر کیا، لیکن صرف آدھی بات بتائی۔ ”میں واضح کرنا چاہتی ہوں کہ اس وقت اس کی مخالفت بی جے پی نے ہی کی تھی“۔

پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران خواتین ریزرویشن بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ مجوزہ حلقہ بندی (ڈی لمیٹیشن) کے عمل میں کسی بھی ریاست یا علاقے کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ خواتین ریزرویشن کی آڑ میں حلقہ بندی (ڈی لمیٹیشن) کے ذریعے انتخابی نقشہ بدلنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اس بل کے ذریعے واقعی تمام طبقات کی خواتین کو فائدہ ہوگا، خاص طور پر مسلم اور او بی سی خواتین کو۔ انہوں نے کہا کہ اگر خواتین کو ریزرویشن دینا ہے تو پارٹیوں کو چاہیے کہ وہ خود نشستیں مختص کریں، نہ کہ علاقوں کی بنیاد پر تبدیلی کی جائے۔

ایوان میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اگر اپوزیشن اس بل کی مخالفت کرتی ہے تو اس سے انہیں سیاسی فائدہ ہوگا، لیکن اگر وہ اس کی حمایت کرتی ہے تو وہ خود اپوزیشن کو اس کا کریڈٹ دینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ذاتی طور پر کسی قسم کا کریڈٹ نہیں چاہیے۔

حکومت نے ان بلوں پر بحث کے لیے 12 گھنٹے مقرر کیے ہیں، جسے ضرورت پڑنے پر 18 گھنٹے تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ آج دوپہر 3 بجے نریندر  مودی نے لوک سبھا سے خطاب کیا، جہاں انہوں نے بل کی اہمیت اور حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت کا مؤقف پیش کیا۔

حکومت کی طرف سے پیش کردہ بل کے بارے میں سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو نے لوک سبھا میں کہا، ”ہم آئین (131 ویں ترمیم) بل، 2026، یونین ٹیریٹریز لاز (امیڈمنٹ) بل، 2026، یونین ٹیریٹریزلا (ترمیمی) بل، 2026 کی مخالفت کرتے ہیں، جس میں کوئی دوسری پارٹی نہیں ہے۔ خواتین کے ریزرویشن کی اتنی بڑی حامی ہے۔“

جموں وکشمیرکے سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا کہ اگریہ بل صرف اس مقصد کے ساتھ لایا جا رہا ہے کہ اس کا حتمی فائدہ بی جے پی کوہونا چاہئے نہ کہ عام ووٹروں کوتویہ ایک ایسی بات ہے، جس پرہمیں غور کرنا ہوگا۔

شرومنی اکالی دل نے حد بندی کو خواتین کے تحفظات سے جوڑنے کی مخالفت کی ہے۔ پارٹی صدر سکھبیر سنگھ بادل نے کہا کہ ان کی پارٹی خواتین کے تحفظات کی حمایت کرتی ہے۔ شرومنی اکالی دل نے خواتین ریزرویشن کے ساتھ حد بندی کو جوڑنے کی مخالفت کی ہے۔ پارٹی صدر سکھبیر سنگھ بادل نے کہا کہ ان کی پارٹی خواتین کے ریزرویشن کی حمایت کرتی ہے، لیکن آبادی کی بنیاد پر لوک سبھا سیٹوں کی حد بندی کی مخالفت کرتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن اس میٹنگ میں اس بات پر بھی غور کرے گی کہ پارلیمنٹ میں حکومت کو کن نکات پر گھیرنا ہے اور کس طرح ان حساس معاملات کو عوامی سطح پر اٹھایا جائے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ میٹنگ اپوزیشن اتحاد کے لیے اپنی یکجہتی کو مضبوط کرنے کا ایک اہم موقع ثابت ہو سکتی ہے۔

وزیر اعظم مودی اس بل پر لوک سبھا میں خطاب کریں گے اور اس کی اہمیت، مقاصد اور ممکنہ اثرات پر روشنی ڈالیں گے۔ وہ اس اقدام کو خواتین کی سیاسی شمولیت بڑھانے اور جمہوری نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ضروری قرار دیں گے۔ دوسری جانب قانون وزیر ارجن میگھوال اس بل کو باضابطہ طور پر پیش کریں گے۔