Bharat Express DD Free Dish

Women Reservation Bill

سماجوادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے مرکزی حکومت کو گھیرتے ہوئے کہا کہ ڈی لمیٹیشن کو انہوں نے خواتین ریزرویشن بل کے ساتھ جوڑ دیا، جس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

ریونت ریڈی نے کہا کہ بی جے پی کی بنیاد 1980 میں رکھی گئی اور تقریباً 50 سال میں 15 مرتبہ پارٹی صدر منتخب ہوئے، لیکن ان میں سے ایک بھی خاتون نہیں تھی۔ ان کے مطابق کئی مرد لیڈروں کو بار بار موقع دیا گیا، مگر خواتین کو قیادت میں جگہ نہیں ملی

اسمرتی ایرانی  نے الزام لگایا کہ کانگریس کی حکومتوں کے دور میں دہائیوں تک خواتین بنیادی سہولتوں سے محروم رہیں، جب کہ بی جے پی حکومت میں خواتین کے لیے فلاحی اقدامات اور “جینڈر بجٹ فریم ورک” جیسے اقدامات شروع کیے گئے۔

وزیراعظم  مودی نے کہا کہ خواتین کے ریزرویشن بل کی حمایت نہ کرنا اپوزیشن کی بڑی سیاسی غلطی ہے اور یہ رویہ خواتین کو ان کے حقوق سے محروم رکھنے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے کے سیاسی نتائج اپوزیشن کو بھگتنے پڑیں گے۔

کرن رجیجو نے کہا کہ اگر ملک کے موجودہ حالات کی بات کریں تو حکومت کے مطابق بائیں بازو کی شدت پسندی تقریباً ختم ہونے کے دہانے پر ہے۔ شمال مشرقی علاقوں میں بھی، منی پور کو چھوڑ کر بیشتر علاقوں میں امن بحال کیا گیا ہے،

کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے کہا کہ حکومت نے خواتین ریزرویشن بل کے ذریعے اقتدار میں رہنے کی سازش کی۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کے ذریعہ حکومت خواتین کا مسیحا بننے کی کوشش کررہی تھی، لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہے۔

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل کے مسترد ہونے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے اپوزیشن کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔ حکمراں اتحاد نے اس فیصلے کو ”ناری شکتی“ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیتے ہوئے اپوزیشن پر خواتین کے حقوق کو روکنے کا الزام عائد کیا ہے۔

بل کے مسترد ہونے کے فوراً بعد ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی اور حکمراں جماعت و اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ شروع ہو گئی۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خواتین کی توہین ہے اور اس کے سیاسی نتائج دور رس ہوں گے۔

بل کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت یعنی 352 ووٹ درکار تھے، لیکن حکومت مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کر سکی اور بل مسترد ہو گیا۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مزید کہا کہ بعض حلقوں میں ووٹروں کی تعداد 49 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جو جمہوری نظام کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق ایک ہی رکن پارلیمنٹ کے لیے اتنی بڑی تعداد کے ووٹروں کی نمائندگی کرنا نہایت مشکل ہو جاتا ہے، جس سے عوامی مسائل کو مؤثر طریقے سے ایوان تک پہنچانا ممکن نہیں رہتا۔