Bharat Express DD Free Dish

Women Reservation Bill

پرینکاگاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں خواتین ریزرویشن ملک کی خواتین کا حق ہے اور ایک دن یہ ضرور حقیقت بنے گا۔انہوں نے کہا کہ 2011 کی مردم شماری اور اس پر مبنی حد بندی سے جوڑ کر نریندر مودی کی خواتین کے مسیحا بننے کی کوشش آج ناکام ہو گئی۔

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل پر جاری بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ 2026 کی مردم شماری ذات (کاسٹ) کی بنیاد پر بھی کرائی جائے گی۔

لوک سبھا کے اجلاس میں خواتین ریزرویشن بل پر بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن، خصوصاً کانگریس اور انڈیا اتحاد کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن مختلف بہانوں کے ذریعے خواتین ریزرویشن کی مخالفت کر رہی ہے اور درحقیقت وہ اس قانون کے نفاذ کے بجائے اس کے بنیادی تصور کے خلاف ہے۔

لوک سبھا میں ووٹنگ کے بعد مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو نے اعلان کیا کہ اب دیگر دو بلوں پر ایوان میں آگے بحث نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی لوک سبھا اسپیکرنے ایوان کی کارروائی کل تک کے لئے ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔

لوک سبھا کے خصوصی اجلاس میں تین اہم بلوں پر ووٹنگ سے عین قبل ایوان کا ماحول اس وقت گرما گیا جب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کے درمیان غازی آباد کے ووٹر ڈیٹا کو لے کر شدید بحث چھڑ گئی۔ یہ بحث نہ صرف اعداد و شمار تک محدود رہی بلکہ ملک میں نئی حدبندی (ڈی لمیٹیشن) کی ضرورت پر بھی مرکوز ہو گئی۔

لوک سبھا میں ناری شکتی وندن سمیت تین بلوں پر اپنی بات رکھتے ہوئے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ میں 20 سال میں جو حاصل نہیں کرسکا وہ میری بہن نے پانچ سال میں حاصل کرلیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بل خواتین کے لئے نہیں ہے۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ اوبی سی اور دلتوں کو ہندو کہا جاتا ہے، لیکن انہیں حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔

ترنمول کانگریس نے کہا کہ اس کے کم ازکم 20 ممبران پارلیمنٹ ووٹنگ کے دوران موجود ہوں گے۔ ہم اس تعداد کو بڑھانے کی کوشش کریں گے۔ لیکن، سدیپ بندوپادھیائے کی طبیعت ناسازہے، ابھیشیک بنرجی ریاست بھرمیں اسٹارپرچارک ہیں اورکچھ اراکین پارلیمنٹ کی اپنے حلقوں میں موجودگی ضروری ہے۔

لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے واضح کیا کہ کرناٹک، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور تمل ناڈو سمیت تمام جنوبی ریاستوں کی نشستوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے منصوبے کے مطابق نشستوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ میں مجموعی نمائندگی بڑھے گی اور تمام ریاستوں کو اس کا فائدہ ملے گا۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مزید کہا کہ 2029 سے پہلے نہ تو نئی حلقہ بندی نافذ ہوگی اور نہ ہی اس کے تحت انتخابات ہوں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حلقہ بندی کمیشن کی رپورٹ اسی وقت نافذ ہوگی جب پارلیمنٹ اسے منظور کرے گی اور صدر اس پر دستخط کریں گے۔ اس لیے آئندہ انتخابات پرانے حلقوں اور موجودہ نظام کے تحت ہی ہوں گے۔

لوک سبھا میں اس اہم بحث کے دوران تازہ ووٹنگ میں 333 اراکین میں سے 207 ارکان نے بل پیش کرنے کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 126 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ اس ووٹنگ کے بعد ایوان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی تناؤ مزید بڑھ گیا۔ حکومت اس بل کو آئینی ترمیم کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے، جس کے لیے دونوں ایوانوں میں خصوصی اکثریت درکار ہوگی۔