نئی دہلی: بھارت کی وزارت خارجہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک کمرشل جہاز پر حملے کی اطلاع دی ہے۔ وزارت خارجہ نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ عمان کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے پانامہ کے پرچم والے جہاز ’ایم ٹی آن پیس‘ (آئی ایم او 9893204) پر منگل کے روز حملہ کیا گیا۔ جہاز پر سوار 19 رکنی عملے میں 17 بھارتی شہری شامل تھے، جن میں سے مجموعی طور پر 12 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں 11 بھارتی ملاح ہیں۔
حملے میں 12 ارکان عملہ زخمی، 11 بھارتی شہری
بھارت نے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے خطے میں کمرشل جہازوں پر مسلسل ہو رہے حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران جہاز پر ایک پروجیکٹائل آ کر لگا۔ حملے میں عملے کے 12 ارکان زخمی ہوئے، جن میں 11 بھارتی شہری ہیں۔
زخمیوں کو عمان کے خاصاب کیا گیا منتقل
بیان میں مزید بتایا گیا کہ عمانی حکام کی مدد سے تمام زخمی عملے کے ارکان کو جہاز سے نکال کر بحفاظت عمان کے خاصاب پہنچایا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ بھارت نے اس دوران مدد کرنے پر عمانی حکام کا شکریہ ادا کیا ہے۔
کمرشل جہازوں پر حملے روکنے کی اپیل
وزارت خارجہ نے کہا کہ خطے میں جہازوں پر حملوں کے مسلسل واقعات بھارت کے لیے شدید تشویش کا باعث ہیں۔ بھارت نے خطے میں امن اور استحکام کے مفاد میں ایسے حملوں کو فوری طور پر روکنے کی اپنی اپیل دہرائی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ خطے میں کمرشل جہازوں، ملاحوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کے ذریعے جہاز رانی اور تجارت کو جلد از جلد بحال کرنا بھی ضروری ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم
آبنائے ہرمز عالمی بحری تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔ یہاں جہازوں کی آمدورفت متاثر ہونے سے نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی فراہمی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ بھارت نے واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں محفوظ جہاز رانی اور بلا رکاوٹ تجارتی سرگرمیوں کو یقینی بنانا خطے میں امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



