Bharat Express DD Free Dish

Parliament Session

پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق حلقہ بندی اور خواتین کے ریزرویشن سے متعلق تجاویز اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہوسکتی ہیں، تاہم حکومت نے ابھی تک خصوصی اجلاس کی تاریخوں کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔

2026 کے مانسون سیشن کے دوران پارلیمنٹ میں تقریباً 7,023 منٹ تک کارروائی متاثر رہی۔ فی منٹ تقریباً لاکھوں روپے کی لاگت کے حساب سے پارلیمانی وقت کے ضیاع کا تخمینہ تقریباً 175 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔

لوک سبھا میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت کی کاروباری لحاظ سے سرفہرست 500 لسٹڈ کمپنیوں میں خواتین کی اعلیٰ انتظامی عہدوں پر نمائندگی اب بھی انتہائی کم ہے۔ ان کمپنیوں میں صرف 9 خواتین چیف ایگزیکٹو آفیسرز (CEO) اور 25 خواتین مینیجنگ ڈائریکٹرز (MD) کے عہدوں پر فائز ہیں۔ یہ اعداد و شمار وزارت کارپوریٹ امور کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے ہیں۔

وزیر داخلہ امت شاہ کے مباحثے کی پیشکش پر اپوزیشن کا سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ راہل گاندھی نے مرکزی وزیر داخلہ پر پارلیمنٹ سے غیر حاضر رہنے کا الزام لگایا ہوئے کہا کہ  طلبہ پر مبینہ فائرنگ اور لاٹھی چارج کا حکم کس نے دیا؟

اپوزیشن جماعتیں بل کی مخالفت کر رہی ہیں، جبکہ عیسائی تنظیموں نے بھی اس کی بعض دفعات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ یہ بل فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ایکٹ، 2010 میں ترمیم سے متعلق ہے، جو ہندوستان میں افراد، انجمنوں اور کمپنیوں کی جانب سے غیر ملکی عطیات وصول کرنے اور ان کے استعمال کو منظم کرتا ہے۔

متعدد اپوزیشن جماعتوں نے ایف سی آر اے ترمیمی بل کی مخالفت کی ہے۔ کانگریس رہنما کے سی وینوگوپال نے جمعہ کو کہا تھا کہ پارٹی اس بل کی شدید مخالفت کرے گی اور ’’حکومت اس طرح کے بل کو زبردستی منظور نہیں کرا سکتی۔‘‘ یہ بل غیر ملکی عطیات (ریگولیشن) ایکٹ، 2010 میں ترمیم کی تجویز پیش کرتا ہے۔ حکومت کے مطابق اس کا مقصد غیر ملکی عطیات کے ضابطے میں شفافیت اور جواب دہی کو مزید بہتر بنانا ہے۔

خواتین ریزرویشن بل کے معاملے میں کرن ریجیجو اور راہل گاندھی آمنے سامنے ہیں۔ ریجیجو نے کانگریس سے حمایت کی امید ظاہر کی، جبکہ راہل گاندھی نے حلقہ بندی اور قانون کے نفاذ پر سوالات اٹھائے۔

راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں جمعرات کے روز شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کارروائی کے دوران اپوزیشن کو ایوان کے قواعد کا حوالہ دیا، جس پر قائدِ حزبِ اختلاف ملیکارجن کھڑگے نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اہم معاملات پر جواب دینے سے گریز کر رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسی غیر رسمی ملاقاتوں میں ارکانِ پارلیمنٹ اپنے حلقوں کے مسائل، عوامی تجاویز، پالیسی معاملات، پارلیمانی حکمتِ عملی اور حکومتی منصوبوں سے متعلق اپنی رائے براہِ راست وزیر اعظم کے سامنے رکھتے ہیں، جس سے حکومت اور عوامی نمائندوں کے درمیان بہتر رابطہ قائم رہتا ہے۔

گزشتہ 20 جولائی کو مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی، ایودھیا رام مندر کے چندے میں مبینہ بے ضابطگیوں اور دیگر معاملات کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے احتجاجی مارچ کیا گیا۔ یہ مارچ پریرنا استھل پر مہاتما گاندھی کے مجسمے سے شروع ہو کر مکر دروازے تک نکالا گیا۔