Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi and Priyanka Detained: ووٹ چوری کے الزامات پر اپوزیشن کا احتجاج، راہل اور پرینکا گاندھی سمیت کئی لیڈر حراست کے بعد ہوئے رہا

ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا بڑا احتجاج، 300 سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے الیکشن کمیشن تک مارچ کیا، راہل گاندھی نے کہا- ’ہم کروڑوں بھارتیوں کی نمائندگی کرتے ہیں، پھر الیکشن کمشنر ہم سے کیوں نہیں مل رہے؟‘

نئی دہلی: الیکشن کمیشن کی کارکردگی اور ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج منگل کو دہلی میں ہنگامہ خیز ہوگیا۔ ’انڈیا‘ بلاک کے 300 سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن کے دفتر ’نرواچن سدن‘ تک مارچ کیا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان کئی مقامات پر دھکا مکی ہوئی۔ پولیس نے اپوزیشن لیڈروں کو الیکشن کمیشن کے دفتر جانے سے روک دیا۔ کئی لیڈروں کو الگ الگ تھانوں میں بٹھایا گیا، جبکہ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کو آکاش وانی بھون کے احاطے میں روک دیا گیا تھا۔ دونوں کافی دیر تک وہیں دھرنے پر بیٹھے رہے۔ دن بھر جاری سیاسی ہنگامے کے بعد رات میں دہلی پولیس نے آکاش وانی بھون میں موجود کانگریس لیڈروں کے خلاف کارروائی شروع کی۔ اسی سلسلے میں راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت متعدد ارکان پارلیمنٹ اور کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس کی کارروائی کے دوران آکاش وانی بھون کے باہر بھی گہماگہمی دیکھی گئی۔ حراست میں لیے گئے افراد میں تقریباً 50 ارکان پارلیمنٹ کے علاوہ قریب 250 دیگر افراد شامل تھے۔ راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور دیگر کانگریس لیڈروں کو حراست میں لیے جانے کے بعد موقع پر کافی ہنگامہ ہوا۔ تاہم کچھ ہی دیر بعد واضح ہوگیا کہ پولیس ضروری کاغذی کارروائی مکمل کرنے کے بعد تمام لیڈروں کو رہا کر دے گی۔ آخرکار پولیس نے راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت تمام حراست میں لیے گئے کانگریس لیڈروں اور دیگر افراد کو چھوڑ دیا۔

الیکشن کمیشن سے ملاقات کے لیے خط، راہل گاندھی کی شرط

کانگریس ذرائع کے مطابق پارٹی نے تینوں الیکشن کمشنروں، بشمول چیف الیکشن کمشنر، سے ملاقات کا وقت لینے کے لیے باضابطہ خط بھیجا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی افسر آکر آئندہ ایک دو دن میں ملاقات کا یقین دلاتا ہے تو راہل گاندھی اپنا دھرنا ختم کرسکتے ہیں۔ تاہم راہل گاندھی کی اب تک شرط یہی ہے کہ ملاقات میں تمام 300 سے زائد ارکان پارلیمنٹ شریک ہوں۔ ایک سینئر پولیس افسر پرینکا گاندھی سے مسلسل بات کرتے رہے، جبکہ پرینکا راہل گاندھی سے مشورہ کرکے افسر کو جواب دیتی رہیں۔

’ہمیں ووٹ چوری پر سوال پوچھنا ہے، لیکن روک دیا گیا‘

آگے کی حکمت عملی کے بارے میں راہل گاندھی نے کہا کہ انہوں نے پولیس اہلکاروں سے کہا ہے کہ اگر انہیں یہاں سے ہٹانا ہے تو ہٹا دیں، لیکن یہ بھی بتایا جائے کہ وہ ملک میں کہاں بیٹھ سکتے ہیں- انڈیا گیٹ پر، جنتر منتر پر یا سڑک پر؟ راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن اور پولیس پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کانگریس اور اپوزیشن کے نمائندوں کو الیکشن کمیشن کے حکام سے ملاقات کی اجازت کیوں نہیں دی گئی۔ سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے تمام لیڈر یہاں موجود ہیں اور وہ ’ووٹ چوری‘ کے معاملے پر گیانیش کمار سے ملاقات کرکے سوالات کرنا چاہتے ہیں، لیکن انہیں روک دیا گیا۔ انہوں نے کہا، ’’آج 300 سے زیادہ اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے الیکشن کمشنروں سے ملاقات کے لیے پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن تک مارچ کیا۔ ہم کروڑوں بھارتیوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ الیکشن کمشنر ہم سے کیوں نہیں مل رہے ہیں؟ پولیس ہمیں کیوں روک رہی ہے اور دھمکا رہی ہے؟‘‘

آکاش وانی بھون میں دھرنا، پولیس نے کئی کارکنوں کو بھی حراست میں لیا

علاقے میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (BNSS) کی دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ ہونے کی وجہ سے پولیس نے آکاش وانی بھون میں داخل ہونے والے کانگریس کارکنوں کو بھی حراست میں لے لیا۔ حراست میں لیے گئے کارکنوں کو پولیس بس میں بٹھا کر احاطے سے باہر لے گئی۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کے ہیڈکوارٹر کے باہر اس وقت کشیدگی بڑھ گئی جب کانگریس کارکنوں اور انڈیا بلاک کے حامیوں نے ’نرواچن سدن‘ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ الیکشن کمیشن کے گیٹ کو توڑنے کی کوشش کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں۔ اسی دوران راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور دیگر سینئر ارکان پارلیمنٹ نے قریب واقع آکاش وانی احاطے کے اندر دھرنا دیا۔ آکاش وانی احاطہ الیکشن کمیشن کے دفتر سے تقریباً 100 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read