Bharat Express

Priyanka Gandhi

پرینکا  گاندھی کے تازہ ترین بیانات اسرائیل کے حالیہ فضائی حملوں کے تناظر میں سامنے آئے ہیں جو منگل کے اوائل میں غزہ پٹی کے مختلف حصوں میں کیے گئے، جس میں 400 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے۔ اس حملے نے جنوری سے جاری نازک جنگ بندی کو توڑ دیا ہے۔

پرینکا گاندھی واڈرا نے انسٹاگرام پر لکھا، ’’رنگوں، خوشی، جوش و خروش، بھائی چارے، مساوات اور ہم آہنگی کے عظیم تہوار ہولی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔

پی ایم مودی نے X پر لکھا کہ رمضان کا مقدس مہینہ ہمارے معاشرے میں امن اور ہم آہنگی لائے۔ یہ مقدس مہینہ غور و فکر، شکرگزاری اور رحمت کی علامت ہے۔ یہ ہمیں لوگوں کی مدد اور خدمت کرنے کی اقدار کی بھی یاد دلاتا ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات کو لے کر کانگریس سرگرم ہوگئی ہے۔ بہار میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کرنے والی کانگریس کی نظر دلت ووٹ بینک پر ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت راہل گاندھی اس سال اب تک دو بار پٹنہ کا دورہ کر چکے ہیں۔

پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ مرکزی حکومت نے وائناڈ لینڈ سلائیڈنگ کو آفت قرار دینا قبول کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ اور اسمبلی میں ہم سب اور آپ سب کے دباؤ کا نتیجہ ہے کہ حکومت کو یہ مطالبہ ماننا پڑا۔

اپوزیشن نے ا مریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم ہندوستانیوں کی ملک بدر کئے معاملے پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ کیا۔ صبح 11 بجے پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے کے بعد اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے اس معاملے پر فوری بحث کا مطالبہ کیا۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے کہا کہ عام آدمی پارٹی والے وزیراعظم کے راج محل کی بات کررہے ہیں اوربی جے پی والے کیجریوال کے شیش محل کی بات کر رہے ہیں۔ یہی بات کررہے ہیں کہ کس نے کتنا پیسہ کھایا، کس نے کتنا بڑا محل بنایا تو سوچئے کہ آپ کی بات کون کررہا ہے۔

کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی نے منگل کو بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ، مرکزی حکومت راہل گاندھی سے ڈرتی ہے کیونکہ وہ آئین کے لیے لڑ رہے ہیں۔

راہل کی ریلی (23 جنوری)  کو مسلم محلہ مصطفی آباد میں منعقد کی  جائے گی۔  راہل پہلے ہی  سیلم پور میں اپنی انتخابی مہم شروع کر چکے ہیں۔  24 جنوری کو راہل گاندھی کی ریلی ماڑی پور میں ہوگی جو کہ درج فہرست ذات کی ریزرو سیٹ ہے  لیکن یہاں سکھوں کی ایک بڑی آبادی بھی ہے جس پر کانگریس کی نظریں ہیں۔

حال ہی میں پرینکا گاندھی کے حوالے سے ان کا متنازعہ بیان بھی منظر عام پر آیا تھا۔ کانگریس نے اس کی سخت مذمت کی اور بیدھوڑی کو افسوس کا اظہار کرنا پڑا۔