Bharat Express DD Free Dish

Indian Politics

پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن امریندر سنگھ نے اپنے سیاسی مستقبل کو لے کر بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد گزشتہ چار برسوں میں انہیں کوئی خاص ذمہ داری یا کردار نہیں ملا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ کانگریس اب انہیں دوبارہ پارٹی میں شامل کرے گی۔

راؤز ایونیو کورٹ کے پرانے حکم کو منسوخ کرکے معاملہ دوبارہ مجسٹریٹ عدالت بھیجا گیا، درخواست میں 1980 کی ووٹر لسٹ میں نام شامل ہونے سے متعلق سوالات اٹھائے گئے تھے۔

راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی مِمی کری پر بی جے پی اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ این ڈی اے کے لیڈروں نے اسے وزیراعظم کے عہدے کی توہین قرار دیا، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے کہا کہ تعلیم اور نوجوانوں کے مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے تنازع کھڑا کیا جارہا ہے۔

نئی دہلی میں منعقدہ اے جی نورانی میموریل لیکچر میں حامد انصاری نے اے جی نورانی کی تحریروں اور قوم پرستی سے متعلق ان کے خیالات پر گفتگو کی۔ اسی دوران انہوں نے نورانی کی کتاب کے تعارف میں درج جواہر لال نہرو کے ایک پرانے بیان کا حوالہ دیا۔ انصاری کے مطابق نورانی نے اپنی کتاب میں وزارت خارجہ کے افسران کی ایک میٹنگ کے دوران نہرو کے کہے گئے الفاظ کا ذکر کیا تھا، جنہیں اس وقت کے خارجہ سکریٹری جگت سنگھ گنڈیویا کے ریکارڈ سے جوڑا گیا تھا۔ انصاری نے نورانی کی کتاب کے حوالے سے نہرو کا یہ بیان پیش کیا کہ بھارت کے لیے خطرہ کمیونزم نہیں بلکہ ’ہندو دائیں بازو کی فرقہ واریت‘ ہے۔

مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ کو وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ جینت چودھری اپنی اہلیہ اور دونوں بیٹیوں کے ساتھ وزیراعظم سے ملنے پہنچے۔ انہوں نے ملاقات کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں اس ملاقات کو لے کر مختلف باتیں ہونے لگیں۔

پیر کی شام وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں ہونے والی جائزہ میٹنگ پر سب کی نظر، مختلف وزارتوں کی کارکردگی پر تفصیلی بحث کے بعد وزرا کی ذمہ داری طے ہونے یا مستقبل میں کابینہ میں ردوبدل کے اشارے ملنے کا امکان

پنجاب میں جاری SIR کے تحت راگھو چڈھا کا نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہے۔ انہیں ASDD فہرست میں ’Permanently Shifted‘ یعنی ’مستقل طور پر منتقل‘ بتایا گیا ہے۔ جانیں پورا معاملہ۔

کانگریس کا سوال ہے کہ جن لوگوں نے ’شدھی کرن‘ کیا، ان کے خلاف ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئی؟ اس معاملے کو لے کر کانگریس نے ریاست سے لے کر قومی دارالحکومت دہلی تک احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ راہل گاندھی کے خلاف درج شکایت واپس لینے کے مطالبے کو لے کر 200 سے زائد کانگریسی کارکنان نے دہرادون میں پولیس ہیڈکوارٹر تک مارچ کیا اور اتراکھنڈ کے پولیس ڈائریکٹر جنرل دیپم سیٹھ کو میمورنڈم بھی پیش کیا۔

بی جے پی کی نئی قومی ٹیم کی تشکیل کے بعد مرکزی وزارتی کونسل میں ممکنہ تبدیلیوں کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔ نوجوانوں، خواتین اور اتحادی جماعتوں کو نمائندگی دینے پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔ مودی حکومت کی تیسری مدت میں اتحادی جماعتوں کا کردار پہلے کے مقابلے میں زیادہ اہم ہے۔ اس لیے وزارتی کونسل میں کسی بھی ردوبدل کے دوران این ڈی اے کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ سیاسی توازن قائم رکھنا بھی ضروری ہوگا۔

امت شاہ نے کہا کہ یہ فیصلہ محض علامتی نہیں ہے بلکہ ایک ایسی تاریخی غلطی کو دہرانا ہے جس نے ملک کی تقسیم میں کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے کہا ’’کل کانگریس ورکنگ کمیٹی نے ایک حیران کن اور ملک مخالف فیصلہ کیا۔ 1937 کی اپنی قرارداد کے تحت انہوں نے عظیم قومی گیت وندے ماترم کے صرف دو بند گانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘