Neha Bora released from R.K. Puram Police Station :رات بھر حراست سے رہائی کے بعد نیہا بورا کا پہلا بیان، پولیس کی کارروائی اور قانون و انتظام پر اٹھائے سوال
اے آئی ایس اے کی قومی صدر نے ابھجیت دیپکے سمیت دیگر مظاہرین کی رہائی کا مطالبہ کیا، ایس آئی آر پر روک لگانے اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی دہرایا
Abhijit Dipke in Custody: ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ سے پہلے ابھیجیت دیپکے حراست میں، کناٹ پلیس جانے کی کر رہے تھے کوشش
ترنگا مارچ سے پہلے پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کے مطابق، وہ کناٹ پلیس جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس سے پہلے پولیس نے انہیں ترنگا مارچ نہ نکالنے کی اپیل کی تھی۔ پولیس کی ایک ٹیم ان کی رہائش گاہ پر بھی پہنچی تھی اور بغیر اجازت مارچ نکالنے سے متعلق نوٹس جاری کیا تھا۔
CJP Tiranga Protest: ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ سے پہلے دہلی پولیس کی کارروائی، ابھیجیت دیپکے کو نوٹس جاری، کناٹ پلیس میں مظاہرہ نہ کرنے کی ہدایت
پولیس نے نوٹس میں کہا ہے کہ کناٹ پلیس میں بڑی تعداد میں دکانیں، شوروم، ریستوران، ہوٹل، بینک اور دفاتر موجود ہیں۔ یہاں مظاہرے سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں اور تاجروں کے ساتھ کام کرنے والے ملازمین کی روزی روٹی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ نوٹس میں 15 لاکھ سے زیادہ تاجروں اور ملازمین کے روزگار کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
Lehra Do Tiranga March: دفعہ 163 نافذ، سینٹرل پارک دو دن کے لیے بند، سی جے پی کی ترنگا یاترا پر دہلی پولیس کا بیان
ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) نے بتایا کہ نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) نے دہلی پولیس کو خط لکھ کر مطلع کیا ہے کہ انتظامی وجوہات کی بنا پر 16 اور 17 اکتوبر کو سینٹرل پارک بند رہے گا۔
Questions raised over Delhi Police’s action: رات بھر ایف آئی آر کا مطالبہ، صبح 4:30 بجے گرفتاری، یہ کیسا انصاف ہے؟ دہلی پولیس کی کارروائی پر کانگریس برہم،ویڈیو وائرل
مظاہرے کے دوران پولیس پر مار پیٹ کا الزام لگانے والی کیرالہ کی قانون کی طالبہ اتھیرا وجین کی شکایت پر زیرو ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اتھیرا دہلی یونیورسٹی کی طالبہ اور این ایس یو آئی کی کارکن ہیں۔شکایت کے مطابق، اتھیرا نے الزام لگایا ہے کہ دہلی پولیس کے اہلکاروں نے ان کے ساتھ مار پیٹ کی، جس سے ان کے جسم کے کئی حصوں پر چوٹیں آئیں۔ ان کا دہلی کے ہارڈنگ اسپتال میں علاج جاری ہے۔
Delhi Protest News: ابھجیت دیپکے کے ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ سے پہلے بڑا جھٹکا، کناٹ پلیس کا سینٹرل پارک 2 دن کے لیے بند، دہلی پولیس نے کہا- دفعہ 163 نافذ ہے
دہلی پولیس کی ڈی سی پی پی آر او نیہا یادو نے بتایا کہ این ڈی ایم سی نے دہلی پولیس کو خط لکھ کر سینٹرل پارک کو 16 اور 17 اکتوبر کو بند رکھنے کی اطلاع دی ہے۔ کونسل نے پولیس سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ پارک کی حفاظت کے مناسب انتظامات کیے جائیں اور کسی بھی غیر مجاز شخص کو اندر داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔
Supreme Court: ’سپریم کورٹ کو کوئی ڈرا نہیں سکتا‘، احتجاجی مارچ معاملے پر چیف جسٹس کا دوٹوک موقف، مرکز اور دہلی پولیس کو نوٹس
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باگچی کی بنچ نے سپریم کورٹ کے احاطے کے باہر حال ہی میں نکالے گئے احتجاجی مارچ اور ایس آئی آر سے متعلق بے ضابطگیوں کے معاملات پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے دونوں فریقوں سے جواب طلب کیا ہے اور سپریم کورٹ کے احاطے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے کی سخت ہدایت بھی دی ہے۔
FIR Against 3 Female Journalists: دہلی پولیس پر جن 3 خاتون صحافیوں نے لگایا تھا جنسی ہراسانی کا الزام، اب انہی کے خلاف ایف آئی آر درج
اے سی پی وویک بھگت کی شکایت پر کارروائی، ذات سے متعلق مبینہ توہین آمیز تبصروں سمیت دیگر الزامات کے تحت مقدمہ درج
FIR Registered Against CJP Leaders: دہلی پولیس نے سورو داس اور آشوتوش رانکا کے خلاف درج کی ایف آئی آر، جنتر منتر میں بغیر اجازت داخلے کا الزام
دہلی پولیس نے جنتر منتر کے علاقے میں بغیر اجازت داخل ہونے کے الزام میں کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے لیڈر سورو داس، آشوتوش رانکا اور دیگر افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ پولیس کے ایک ذرائع کے مطابق، ایف آئی آر میں رانکا اور داس کی جانب سے پہلے جمع کرائے گئے امن برقرار رکھنے کے بانڈ کی خلاف ورزی سے متعلق دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
CJP Condemns Jantar Mantar Denotification: جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹانے کی سی جے پی نے کی مذمت، کہا-’’انتظامی حکم سے ختم نہیں کیا جاسکتا اختلافِ رائے کا حق‘‘
سی جے پی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا اس کا مطالبہ برقرار ہے اور وہ جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹانے کے فیصلے کو چیلنج کرتی رہے گی۔ پارٹی نے کہا کہ وہ انتخابی جواب دہی کے مطالبے سے دست بردار نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی تاریخی احتجاجی مقام کو فہرست سے ہٹائے جانے کو پُرامن جمہوری جدوجہد سے پیچھے ہٹنے کی وجہ بننے دے گی۔





