Dipke on detention of Ranka and Sourav: ’’جنتر منتر ملک کی ملکیت ہے…‘‘، رانکا-سورو داس کی حراست پر ابھیجیت دیپکے کا ردعمل
ابھیجیت دیپکے نے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر ملک کی ملکیت ہے اور وہ وہاں اس وقت تک ترنگا لہراتے رہیں گے، جب تک چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار استعفیٰ نہیں دے دیتے۔
Delhi’s Jantar Mantar de-notification: کیا جنتر منتر کو احتجاجی مقام کی فہرست سے ہٹانے کا دہلی پولیس کا فیصلہ قانونی طور پر درست ہے؟
سپریم کورٹ نے 2018 میں احتجاج پر مکمل پابندی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے محدود اور منظم مظاہروں کی اجازت دینے کی ہدایت دی تھی۔ اب رام لیلا میدان، براڑی میدان اور سی بی ڈی گراؤنڈ کو متبادل مقامات مقرر کیے جانے پر قانونی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
Delhi Metro Station Closure: دہلی میٹرو اسٹیشن بند کرنے کا فیصلہ کون کرتا ہے؟ جانیں پولیس، ڈی ایم آر سی اور قانون کی مکمل کارروائی
دہلی میں احتجاج اور مارچ کے دوران میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازے اچانک کیوں بند کر دیے جاتے ہیں؟ جانیں دہلی پولیس، ڈی ایم آر سی اور قانون کے تحت اسٹیشنوں کو بند کرنے اور دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیسے ہوتا ہے؟
Rahul Gandhi targets PM Modi: ’’چیف الیکشن کمشنر کو بچا رہے ہیں وزیراعظم مودی‘‘ راہل گاندھی کا بڑا الزام، کہا-’’دہلی کو قلعے میں کیا جارہا ہے تبدیل‘‘
دہلی میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور متعدد مقامات پر بیریکیڈنگ کی گئی ہے۔ حفاظتی وجوہات کی بنا پر 12 اکتوبر کو شام 4 بجے تک کچھ میٹرو اسٹیشنوں کے داخلے اور خارجی راستے بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
CJP Protest Again: سی جے پی پھر کرے گی احتجاج؟ آشوتوش رنکا کا اعلان، بولے- دہلی پولیس کے پاس 24 گھنٹے کا وقت
سی جے پی کے بانی ابھجیت دیپکے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے طور پر مودی ہندوستان کے لیے شرمندگی کا باعث ہیں۔دیپکے نے اپنی دادی کے انتقال کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس غم کی گھڑی میں اپنے خاندان کے ساتھ رہنے کے لیے اپنے گاؤں واپس جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سی جے پی کے رہنما نہ پیچھے ہٹیں گے اور نہ ہی ڈریں گے۔
Abhijeet Deepke Delhi Police Controversy: ابھجیت دیپکے کا جھوٹ پکڑا گیا، سی جے پی کے الزامات پر دہلی پولیس کا جواب، پریس کانفرنس میں ویڈیو دکھا کر پیش کیا اپنا موقف
دہلی پولیس نے جنتر منتر پر سی جے پی کو احتجاج کی اجازت نہ دینے کی وجہ بھی بتائی۔ ڈی سی پی نہا یادو کے مطابق، ماضی میں اس تنظیم کو احتجاج کی اجازت دی گئی تھی، لیکن پولیس کے دعوے کے مطابق اس دوران امن و قانون کی صورت حال خراب ہوئی تھی۔پولیس نے الزام لگایا کہ اس احتجاج کے دوران پتھراؤ، آتش زنی اور تشدد کے واقعات پیش آئے تھے، جن کے نتیجے میں سرکاری املاک کو بھاری نقصان پہنچا تھا۔
CJP Press Conference: سی جے پی کی پریس کانفرنس میں الیکشن کمیشن، مرکزی حکومت اور دہلی پولیس پر اٹھے سوال، حکومت کے خاتمے کا دعویٰ
سی جے پی کے شریک کنوینر اور ترجمان آشوتوش رانکا نے کہا کہ گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران ملک میں ایسے کئی واقعات پیش آئے ہیں، جن کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ہے۔
Rahul Gandhi: راہل گاندھی نے احتجاج کے دوران خواتین اور نوجوانوں کے ساتھ مبینہ تشدد پر بھی سوال اٹھائے، سوشل میڈیا پلیٹ پر شیئر کی پوسٹ
حکومت نوجوانوں اور طلبہ کی آواز دبانے کی جتنی کوشش کرے گی، نئی نسل کا غصہ اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔کانگریس لیڈر نے اعلان کیا کہ 12 اکتوبر کو کانگریس سمیت انڈیا اتحاد کی جماعتیں اور ملک کے نوجوان بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلیں گے۔ ان کے مطابق، اس بار احتجاج کی آواز پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ پورے ملک میں سنائی دے گی۔
Mamata Accuses Delhi Police of Abduction: ممتا بنرجی کا دہلی پولیس پر ’اغوا‘ کرنے کا الزام، تھانے میں دھرنے پر بیٹھیں
ٹی ایم سی کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ممتا بنرجی کو دہلی پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) نے حراست میں لے لیا ہے۔ وہ منہ پر بینڈیج لگا کر احتجاج کر رہی تھیں۔ ذرائع کے مطابق، منہ پر بینڈیج لگانا ان کی آواز دبانے کی کوششوں کے خلاف علامتی احتجاج تھا۔
Abhijeet Dipke Detain: ابھجیت دیپکے، سورَو داس، آشوتوش رانکا، دھرو راٹھی سمیت 600 سے زائد افراد پولیس کی حراست میں، ڈرون کے ذریعے نگرانی
دہلی پولیس نے جنتر منتر پر سی جے پی کے احتجاج سے پہلے یوٹیوبر دھرو راٹھی کو گروگرام کے سیکٹر 56 میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لے لیا۔ پولیس ذرائع نے یہ اطلاع دی۔ دھرو راٹھی کے علاوہ سی جے پی کی قانونی ٹیم کی سربراہ رتنا سنگھ کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ دونوں احتجاج میں شامل ہونے کے لیے پہنچے تھے۔مجوزہ احتجاج کے پیش نظر پوری قومی راجدھانی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔





