Bharat Express DD Free Dish

Delhi Police

اسپتال میں زخمی کے دوست محسن نے بتایا کہ منگل کی رات تقریباً 9 بجے وہ سبحان کے ساتھ سینٹرل پارک میں سگریٹ نوشی کر رہا تھا۔ اسی دوران 5 سے 6 نامعلوم لڑکوں نے ان کے سگریٹ پینے پر اعتراض کیا، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان ہاتھا پائی شروع ہوگئی۔

عرضداشت میں اس بات پرخصوصی زوردیا گیا ہے کہ مسجد اوراس کے آس پاس آباد جھگی بستیوں کی قانونی حیثیت کوالگ الگ دیکھا جانا چاہئے۔ تنظیم کے مطابق اگران بستیوں کوہٹانے کا معاملہ زیرغورہے تواس کا اطلاق تاریخی مسجد پرنہیں کیا جا سکتا، کیونکہ مسجد ان بستیوں سے کہیں قدیم ہے اوراس کی اپنی مستقل قانونی حیثیت ہے۔ جھگیوں کوہٹانے سے متعلق عدالتی احکامات کی آڑمیں مسجد کو خالی کرانے یا منہدم کرنے کی کارروائی ان احکامات کے دائرے سے تجاوزہوگی۔

ہائی کورٹ میں دائر عرضی میں نیہا بورا نے انتہائی سنگین الزامات لگائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 16 اکتوبر کو حراست سے رہائی کے بعد سے ہی دہلی پولیس کے اہلکار سادہ لباس میں مسلسل ان کا پیچھا کر رہے ہیں اور انہیں ذہنی طور پر خوف زدہ کرنے اور دھمکانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سینٹرل دہلی کے ڈی سی پی روہت راجبیر سنگھ نے کہا کہ کانگریس کے نمائندوں کو بتایا گیا تھا کہ اس مدت کے دوران یہ مقام خالی ہے۔ اس کے بعد وہ پولیس سے رابطے میں آئے۔ انہوں نے کہا، ’’ہماری ان سے مسلسل بات چیت چل رہی تھی۔ تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے کانگریس کو این او سی منظور کر دی ہے، جس کے بعد پارٹی اپنی تیاریاں شروع کرے گی۔

سی جے پی نے جمعہ کو کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں ’لہرا دو ترنگا‘ احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ اس سے پہلے دہلی پولیس نے مجوزہ احتجاج کے حوالے سے دیپکے کو نوٹس جاری کیا تھا۔ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے شام 5 بجے کناٹ پلیس میں جمع ہونے کی اپیل کی گئی تھی، جبکہ اس کے لیے قانونی اجازت نہیں لی گئی تھی۔

اے آئی ایس اے کی قومی صدر نے ابھجیت دیپکے سمیت دیگر مظاہرین کی رہائی کا مطالبہ کیا، ایس آئی آر پر روک لگانے اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی دہرایا

ترنگا مارچ سے پہلے پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کے مطابق، وہ کناٹ پلیس جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس سے پہلے پولیس نے انہیں ترنگا مارچ نہ نکالنے کی اپیل کی تھی۔ پولیس کی ایک ٹیم ان کی رہائش گاہ پر بھی پہنچی تھی اور بغیر اجازت مارچ نکالنے سے متعلق نوٹس جاری کیا تھا۔

پولیس نے نوٹس میں کہا ہے کہ کناٹ پلیس میں بڑی تعداد میں دکانیں، شوروم، ریستوران، ہوٹل، بینک اور دفاتر موجود ہیں۔ یہاں مظاہرے سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں اور تاجروں کے ساتھ کام کرنے والے ملازمین کی روزی روٹی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ نوٹس میں 15 لاکھ سے زیادہ تاجروں اور ملازمین کے روزگار کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) نے بتایا کہ نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) نے دہلی پولیس کو خط لکھ کر مطلع کیا ہے کہ انتظامی وجوہات کی بنا پر 16 اور 17 اکتوبر کو سینٹرل پارک بند رہے گا۔

مظاہرے کے دوران پولیس پر مار پیٹ کا الزام لگانے والی کیرالہ کی قانون کی طالبہ اتھیرا وجین کی شکایت پر زیرو ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اتھیرا دہلی یونیورسٹی کی طالبہ اور این ایس یو آئی کی کارکن ہیں۔شکایت کے مطابق، اتھیرا نے الزام لگایا ہے کہ دہلی پولیس کے اہلکاروں نے ان کے ساتھ مار پیٹ کی، جس سے ان کے جسم کے کئی حصوں پر چوٹیں آئیں۔ ان کا دہلی کے ہارڈنگ اسپتال میں علاج جاری ہے۔