Bharat Express DD Free Dish

Delhi Police

دہلی پولیس نے جنتر منتر پر سی جے پی کو احتجاج کی اجازت نہ دینے کی وجہ بھی بتائی۔ ڈی سی پی نہا یادو کے مطابق، ماضی میں اس تنظیم کو احتجاج کی اجازت دی گئی تھی، لیکن پولیس کے دعوے کے مطابق اس دوران امن و قانون کی صورت حال خراب ہوئی تھی۔پولیس نے الزام لگایا کہ اس احتجاج کے دوران پتھراؤ، آتش زنی اور تشدد کے واقعات پیش آئے تھے، جن کے نتیجے میں سرکاری املاک کو بھاری نقصان پہنچا تھا۔

سی جے پی کے شریک کنوینر اور ترجمان آشوتوش رانکا نے کہا کہ گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران ملک میں ایسے کئی واقعات پیش آئے ہیں، جن کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ہے۔

حکومت نوجوانوں اور طلبہ کی آواز دبانے کی جتنی کوشش کرے گی، نئی نسل کا غصہ اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔کانگریس لیڈر نے اعلان کیا کہ 12 اکتوبر کو کانگریس سمیت انڈیا اتحاد کی جماعتیں اور ملک کے نوجوان بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلیں گے۔ ان کے مطابق، اس بار احتجاج کی آواز پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ پورے ملک میں سنائی دے گی۔

ٹی ایم سی کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ممتا بنرجی کو دہلی پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) نے حراست میں لے لیا ہے۔ وہ منہ پر بینڈیج لگا کر احتجاج کر رہی تھیں۔ ذرائع کے مطابق، منہ پر بینڈیج لگانا ان کی آواز دبانے کی کوششوں کے خلاف علامتی احتجاج تھا۔

دہلی پولیس نے جنتر منتر پر سی جے پی کے احتجاج سے پہلے یوٹیوبر دھرو راٹھی کو گروگرام کے سیکٹر 56 میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لے لیا۔ پولیس ذرائع نے یہ اطلاع دی۔ دھرو راٹھی کے علاوہ سی جے پی کی قانونی ٹیم کی سربراہ رتنا سنگھ کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ دونوں احتجاج میں شامل ہونے کے لیے پہنچے تھے۔مجوزہ احتجاج کے پیش نظر پوری قومی راجدھانی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

سلیم انجینئر نے کہا کہ میڈیا کی ایسی رپورٹوں کو پڑھ کر بھی تشویش ہوتی ہے کہ آنے والے دنوں میں جنتر منتر اور دہلی کے اطراف کے احتجاج کو روکنے کے لیے تقریباً 38,000 سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ سکیورٹی اہلکاروں کو اپنے ہی ملک کے شہریوں کے خلاف استعمال کرنا ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔ اس کے نتیجے میں شہریوں کے ایک طبقے کو دوسرے طبقے کے مقابل کھڑا کیا جا رہا ہے، جس سے شہریوں اور حکومت کے درمیان اعتماد اٹھ رہا ہے اور ہماری جمہوریت کمزور ہو رہی ہے۔

SIR تنازع پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج، جنتر منتر جانے سے روکے جانے پر ارکان پارلیمنٹ سڑک پر بیٹھے، پرینکا گاندھی نے کہا- ’’میں یہاں سے نہیں ہٹوں گی‘‘

ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا بڑا احتجاج، 300 سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے الیکشن کمیشن تک مارچ کیا، راہل گاندھی نے کہا- ’ہم کروڑوں بھارتیوں کی نمائندگی کرتے ہیں، پھر الیکشن کمشنر ہم سے کیوں نہیں مل رہے؟‘

انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کے مکر دوار سے مارچ شروع کیا تھا۔ اس احتجاج میں کانگریس کے راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے علاوہ این سی پی-ایس پی کی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے سمیت اپوزیشن کے کئی دیگر رہنما شامل ہوئے۔ احتجاج کا مقصد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنا تھا۔اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ الیکشن کمیشن کے ہیڈکوارٹر،

دہلی پولیس نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس کے بعد وہ سوشل میڈیا صارفین کے نشانے پر آگئی۔ اس پوسٹ میں صحافیوں کے لیے گائیڈ لائن جاری کرتے ہوئے بتایا گیا کہ احتجاج کی کوریج کے دوران صحافیوں کو دہلی پولیس کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہیے۔پوسٹ میں سب سے اہم ہدایت یہ دی گئی کہ احتجاج کی کوریج کے لیے آنے والے تمام صحافی اپنا شناختی کارڈ لازمی ساتھ رکھیں۔