Bharat Express DD Free Dish

opposition protest

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس نے گیانیش کمار کے استعفے اور فیصلوں کے آزادانہ جائزے کا مطالبہ کیا

آج اپوزیشن ارکان نے پارلیمنٹ کے احاطے میں حکومت کے خلاف سیاہ لباس پہن کر احتجاج کیا۔ اس احتجاج میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر(قائد حزب اختلاف) راہل گاندھی، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور پرینکا گاندھی سمیت کئی رہنما موجود تھے۔

کانگریس امیدوار میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد ہونے پر سخت اعتراض کا اظہار کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی-الیکشن کمیشن کی ’’جگل بندی‘‘ نے مقابلہ شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں میناکشی نٹراجن کی نامزدگی منسوخ ہونے کے بعد بی جے پی کے تین امیدوار رجنیش اگروال، ترون چُگ اور مہیش کیوٹ کے راجیہ سبھا میں بلا مقابلہ منتخب ہونے کی راہ تقریباً ہموار ہو گئی ہے۔

امت شاہ نے واضح کیا کہ بل پیش کیے جانے کے مرحلے پر اس کی خوبیوں یا خامیوں پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا، بلکہ صرف تکنیکی اعتراضات ہی قابل قبول ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان تمام اعتراضات کا تفصیلی اور ’’مضبوط جواب‘‘ بحث کے دوران دے گی۔

حکومت کی جانب سے خواتین ریزرویشن اور نشستوں میں اضافے کے لیے تین اہم بل پیش کردیے گئے ہیں۔ ان بلوں کا مقصد 2023 میں منظور شدہ ’’ناری شکتی وندن ادھینیم‘‘ کو مکمل طور پر نافذ کرنا اور خواتین کو قانون ساز اداروں میں نمائندگی فراہم کرنا ہے۔ اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی لوک سبھا میں حد بندی بل پیش کیے جانے پر زبردست ہنگامہ دیکھنے کو ملا، جہاں اپوزیشن نے اس اقدام پر سخت اعتراضات ظاہر کیے۔

یہ تنازع لوک سبھا میں راہل گاندھی کی تقریر پر جاری تعطل کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جہاں وہ صدر کے خطاب پر تحریکِ تشکر کے دوران 2020 میں چین کے ساتھ کشیدگی سے متعلق سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی یادداشتوں کا حوالہ دینا چاہتے تھے۔

الیکشن کمیشن اور بی جے پی کے درمیان ملی بھگت کا الزام۔ فارم-7 کا استعمال ووٹروں کی فہرست میں کسی نام کے اندراج پر اعتراض کرنے یا موجودہ نام کو حذف کرانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اکھلیش یادو کا الزام ہے کہ اس فارم کا استعمال جان بوجھ کر سماجوادی پارٹی کے حامی ووٹروں کے نام ہٹانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

پرینکا گاندھی نے حکومت پر بحث سے بھاگنے کا الزام لگایا۔ میموائر تنازع اور راہل گاندھی کے بیان پر پابندی کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں سیاسی ماحول نہایت کشیدہ ہو چکا ہے اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان شدید لفظی جنگ جاری ہے۔

شدید شور شرابے کے باوجود وزیراعظم مودی نے راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھاکرشنن سے مخاطب ہو کر اپنا خطاب جاری رکھا اور صدر کے خطبے پر حکومت کی کامیابیوں اور پالیسیوں کا دفاع کیا۔ تاہم، ایوان کا ماحول مسلسل کشیدہ رہا۔

راہل گاندھی کے بیان پر لوک سبھا میں ہنگامہ، پرینکا گاندھی نے بی جے پی حکومت کو پارلیمنٹ کی کارروائی میں خلل ڈالنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ حکومت بار بار پنڈت نہرو کا نام لے کر عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔