Bharat Express DD Free Dish

opposition protest

امت شاہ نے واضح کیا کہ بل پیش کیے جانے کے مرحلے پر اس کی خوبیوں یا خامیوں پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا، بلکہ صرف تکنیکی اعتراضات ہی قابل قبول ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان تمام اعتراضات کا تفصیلی اور ’’مضبوط جواب‘‘ بحث کے دوران دے گی۔

حکومت کی جانب سے خواتین ریزرویشن اور نشستوں میں اضافے کے لیے تین اہم بل پیش کردیے گئے ہیں۔ ان بلوں کا مقصد 2023 میں منظور شدہ ’’ناری شکتی وندن ادھینیم‘‘ کو مکمل طور پر نافذ کرنا اور خواتین کو قانون ساز اداروں میں نمائندگی فراہم کرنا ہے۔ اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی لوک سبھا میں حد بندی بل پیش کیے جانے پر زبردست ہنگامہ دیکھنے کو ملا، جہاں اپوزیشن نے اس اقدام پر سخت اعتراضات ظاہر کیے۔

یہ تنازع لوک سبھا میں راہل گاندھی کی تقریر پر جاری تعطل کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جہاں وہ صدر کے خطاب پر تحریکِ تشکر کے دوران 2020 میں چین کے ساتھ کشیدگی سے متعلق سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی یادداشتوں کا حوالہ دینا چاہتے تھے۔

الیکشن کمیشن اور بی جے پی کے درمیان ملی بھگت کا الزام۔ فارم-7 کا استعمال ووٹروں کی فہرست میں کسی نام کے اندراج پر اعتراض کرنے یا موجودہ نام کو حذف کرانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اکھلیش یادو کا الزام ہے کہ اس فارم کا استعمال جان بوجھ کر سماجوادی پارٹی کے حامی ووٹروں کے نام ہٹانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

پرینکا گاندھی نے حکومت پر بحث سے بھاگنے کا الزام لگایا۔ میموائر تنازع اور راہل گاندھی کے بیان پر پابندی کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں سیاسی ماحول نہایت کشیدہ ہو چکا ہے اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان شدید لفظی جنگ جاری ہے۔

شدید شور شرابے کے باوجود وزیراعظم مودی نے راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھاکرشنن سے مخاطب ہو کر اپنا خطاب جاری رکھا اور صدر کے خطبے پر حکومت کی کامیابیوں اور پالیسیوں کا دفاع کیا۔ تاہم، ایوان کا ماحول مسلسل کشیدہ رہا۔

راہل گاندھی کے بیان پر لوک سبھا میں ہنگامہ، پرینکا گاندھی نے بی جے پی حکومت کو پارلیمنٹ کی کارروائی میں خلل ڈالنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ حکومت بار بار پنڈت نہرو کا نام لے کر عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔

اسپیکر اوم برلا کی ہدایت کے باوجود راہل گاندھی کا چین سرحدی تنازع پر اصرار کے باعث ایوان میں شور شرابہ بڑھتا چلا گیا، جس کے بعد کارروائی پہلے دوپہر 3 بجے، پھر 4 بجے اور آخرکار دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ قومی سلامتی کا حوالہ دے کر راہل گاندھی سے معافی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

سرمائی اجلاس کے آغاز سے ہی اپوزیشن احتجاج کے موڈ میں ہے اور لگاتار نعرے بازی  اور کارروائی میں رخنہ اندازی کررہی ہے۔ حکومت کی جانب سے تعاون کی اپیل کے باوجود اب تک کوئی پیش رفت نظر نہیں آئی۔ ایوان کی کارروائی کب معمول پر آئے گی، اس پر سب کی نگاہیں مرکوز ہیں۔

جہاں ایک طرف حکومت اسے ووٹر لسٹ کی شفافیت کا عمل قرار دے رہی ہے، وہیں اپوزیشن اسے جمہوری اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والی کارروائی مان رہی ہے۔ بہار کی سیاست میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات نے آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل ایک نیا موڑ لے لیا ہے۔