نئی دہلی: بی جے پی کی خواتین اراکین پارلیمنٹ نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کی حمایت کرتے ہوئے اپوزیشن اراکین پر شدید تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم کی نشست کو گھیرنے اور ایوان میں ہنگامہ آرائی کرنے والے اراکین کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔ بی جے پی کی خواتین ایم پیز نے اسپیکر اوم برلا کو ایک خط لکھ کر الزام عائد کیا کہ 4 فروری کو اپوزیشن کی خواتین اراکین نے وزیر اعظم کی نشست کو گھیر لیا اور بعد ازاں اسپیکر کے کمرے میں جارحانہ انداز میں داخل ہوئیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس مبینہ واقعے میں شامل اراکین کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔
ایوان میں ہنگامہ آرائی، کاغذات پھینکنے کا الزام
خط میں کہا گیا کہ قوم نے لوک سبھا میں ایک ’’افسوسناک اور شرمناک واقعہ‘‘ دیکھا، جب اپوزیشن اراکین نے نہ صرف ایوان کے بیچ (ویل آف دی ہاؤس) میں داخل ہو کر میزوں پر چڑھنے کی کوشش کی بلکہ کاغذات پھاڑ کر اسپیکر کی جانب اچھالے۔ بی جے پی اراکین کے مطابق وہ اس رویے سے شدید طور پر مشتعل ہوئے، لیکن سینئر قیادت کی ہدایت پر انہوں نے کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ پارٹی نے اس واقعے کو پارلیمانی جمہوریت کی تاریخ کے سیاہ ترین لمحات میں سے ایک قرار دیا۔ خط میں کہا گیا کہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب اپوزیشن اراکین جارحانہ انداز میں اسپیکر کے کمرے تک پہنچ گئے اور اندر سے بلند آوازیں سنائی دینے لگیں۔ بی جے پی اراکین نے کہا کہ اپنے تقریباً سات سالہ دورِ صدارت میں اسپیکر اوم برلا نے ہمیشہ ایوان کے وقار کو بڑھانے کی کوشش کی ہے اور غیرجانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم کیے ہیں۔ جمعرات کو اسپیکر اوم برلا نے بتایا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ایوان میں نہ آنے کی درخواست کی تھی، کیونکہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ کچھ کانگریس اراکین وزیر اعظم کی نشست تک پہنچ کر ناخوشگوار واقعہ انجام دے سکتے ہیں۔
کانگریس خواتین ارکان پارلیمنٹ کا جواب
اس کے جواب میں پیر کے روز کانگریس کی خواتین اراکین نے کہا کہ ان کا احتجاج پرامن اور پارلیمانی ضابطوں کے مطابق تھا، لیکن اس کے باوجود انہیں غیر معمولی طور پر نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ صدر کے خطاب پر تحریکِ تشکر کے دوران، راہل گاندھی کو مسلسل چار دن تک بولنے کا موقع نہیں دیا گیا، جبکہ بی جے پی کے ایک رکن کو سابق وزرائے اعظم کے خلاف ’’نازیبا اور فحش‘‘ تبصرے کی اجازت دی گئی۔ کانگریس خواتین اراکین نے کہا کہ جب وہ بی جے پی رکن کے خلاف کارروائی کا مطالبہ لے کر اسپیکر سے ملیں تو انہوں نے اسے ’’سنگین غلطی‘‘ تسلیم کیا، لیکن بعد میں کہا کہ وہ حکومت کے جواب کے منتظر ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب وہ آزادانہ فیصلے نہیں لے پا رہے۔ یہ تنازع لوک سبھا میں راہل گاندھی کی تقریر پر جاری تعطل کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جہاں وہ صدر کے خطاب پر تحریکِ تشکر کے دوران 2020 میں چین کے ساتھ کشیدگی سے متعلق سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی یادداشتوں کا حوالہ دینا چاہتے تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


