Bharat Express DD Free Dish

political confrontation

رندیپ سرجے والا کا ردعمل اُس وقت سامنے آیا جب بھارت اور امریکہ نے باہمی اور بافائدہ تجارت کے لیے ایک عبوری معاہدے کے فریم ورک کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی وسیع تر دوطرفہ تجارتی معاہدے (BTA) کے عزم کا اعادہ کیا گیا، جس کا آغاز 13 فروری 2026 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم نریندر مودی نے کیا تھا۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب راہل گاندھی نے بجٹ اجلاس کے پہلے مرحلے میں ایم ایس پی کو حکومت پر اپنی تنقید کا مرکزی نکتہ بنایا تھا، خاص طور پر بھارت-امریکہ عبوری تجارتی معاہدے کے تناظر میں۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا تھا کہ یہ معاہدہ کسانوں کے ساتھ ’غداری‘ ہے جس سے سرکاری خریداری کا نظام کمزور ہو سکتا ہے اور ایم ایس پی و بونس میں کمی آسکتی ہے۔

اکھیلیش یادو نے رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری اور بھارت-امریکہ معاشی تعلقات کے تناظر میں مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے ’میک اِن انڈیا‘ اور ’اسکل انڈیا‘ جیسے پروگراموں پر سوالات اٹھائے۔

ٹی ایم سی نے کانگریس سے کہا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک لانے سے پہلے اسپیکر اوم برلا کو تحریری اپیل دی جائے۔ ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ اگر دو سے تین دن میں اسپیکر نے اپوزیشن کی اپیل پر کوئی کارروائی نہیں کی تو ان کی پارٹی عدم اعتماد کی تحریک پر دستخط کرے گی۔

یہ تنازع لوک سبھا میں راہل گاندھی کی تقریر پر جاری تعطل کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جہاں وہ صدر کے خطاب پر تحریکِ تشکر کے دوران 2020 میں چین کے ساتھ کشیدگی سے متعلق سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی یادداشتوں کا حوالہ دینا چاہتے تھے۔

شدید شور شرابے کے باوجود وزیراعظم مودی نے راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھاکرشنن سے مخاطب ہو کر اپنا خطاب جاری رکھا اور صدر کے خطبے پر حکومت کی کامیابیوں اور پالیسیوں کا دفاع کیا۔ تاہم، ایوان کا ماحول مسلسل کشیدہ رہا۔