Bharat Express DD Free Dish

PM Modi’s jibe at Kharge: کھڑگے پر وزیراعظم کے طنزیہ تبصرے کے بعد راجیہ سبھا میں ہنگامہ، اپوزیشن کا واک آؤٹ

شدید شور شرابے کے باوجود وزیراعظم مودی نے راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھاکرشنن سے مخاطب ہو کر اپنا خطاب جاری رکھا اور صدر کے خطبے پر حکومت کی کامیابیوں اور پالیسیوں کا دفاع کیا۔ تاہم، ایوان کا ماحول مسلسل کشیدہ رہا۔

 

نئی دہلی: کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے کی عمر سے متعلق وزیراعظم نریندر مودی کے طنزیہ تبصرے کے بعد جمعرات کو راجیہ سبھا میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، جس کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے واک آؤٹ کر دیا۔ وزیراعظم نے ایوان میں خطاب کے دوران 83 سالہ کھڑگے پر چٹکی لیتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں بیٹھ کر نعرے لگانے کی اجازت دی جائے تاکہ انہیں کسی قسم کی جسمانی تکلیف نہ ہو۔ اس جملے کو اپوزیشن نے کھڑگے کی عمر اور صحت کا مذاق اڑانے کے مترادف قرار دیا، جس پر ایوان میں شور شرابہ شدت اختیار کر گیا۔

نعرے بازی اور ہنگامہ آرائی سے ایوان مفلوج

وزیراعظم کے خطاب کے آغاز کے ساتھ ہی کانگریس اور انڈیا اتحاد (INDIA Bloc) کے اراکین نے منظم نعرے بازی شروع کر دی۔ اراکین کے نعرے تھے ’’تاناشاہی نہیں چلے گی‘‘، ’’اندرا جی کی توہین برداشت نہیں کریں گے‘‘ اور ’’ اپوزیشن لیڈر کو بولنے دو‘‘۔ اپوزیشن کا مطالبہ تھا کہ لوک سبھا میں راہل گاندھی کو بغیر کسی پابندی کے اظہارِ خیال کی اجازت دی جائے۔

راہل گاندھی کے معاملے پر کشیدگی برقرار

یہ احتجاج دراصل بدھ کے روز لوک سبھا میں پیش آنے والے واقعات کا تسلسل تھا، جہاں راہل گاندھی نے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی غیر شائع شدہ یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے 2020 کے چین-بھارت سرحدی تنازع پر بات کرنے کی کوشش کی تھی، جس پر بار بار رکاوٹ ڈالی گئی۔ اسی تنازع نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں سیاسی کشیدگی کو شدید کر دیا۔

اپوزیشن کا حکومت پر سنگین الزام

اپوزیشن اراکین نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ قومی سلامتی جیسے سنجیدہ موضوعات پر بحث سے بھاگ رہی ہے اور جواہر لعل نہرو اور اندرا گاندھی جیسے عظیم رہنماؤں کی توہین کر رہی ہے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ راہل گاندھی کے حوالے قواعد ایوان کے خلاف تھے اور اس سے اداروں کے وقار اور فوج کے حوصلے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ہنگامے کے درمیان وزیراعظم کا خطاب جاری

شدید شور شرابے کے باوجود وزیراعظم مودی نے راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھاکرشنن سے مخاطب ہو کر اپنا خطاب جاری رکھا اور صدر کے خطبے پر حکومت کی کامیابیوں اور پالیسیوں کا دفاع کیا۔ تاہم، ایوان کا ماحول مسلسل گرما گرم اور کشیدہ رہا۔ اس سے قبل ایوان بالا کے لیڈر جے پی نڈا نے اپوزیشن کے رویے کو نا بالغ اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا تھا، جس کے بعد ایوان میں تلخ بیانات اور شدید لفظی جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read