Bharat Express DD Free Dish

Lok Sabha adjourned for the day: اجلاس کا دوسرا دن بھی ہنگامے کی نذر، ایس آئی آر پر ہنگامہ جاری، لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی

سرمائی اجلاس کے آغاز سے ہی اپوزیشن احتجاج کے موڈ میں ہے اور لگاتار نعرے بازی  اور کارروائی میں رخنہ اندازی کررہی ہے۔ حکومت کی جانب سے تعاون کی اپیل کے باوجود اب تک کوئی پیش رفت نظر نہیں آئی۔ ایوان کی کارروائی کب معمول پر آئے گی، اس پر سب کی نگاہیں مرکوز ہیں۔

نئی دہلی: سرمائی اجلاس کے دوسرے دن لوک سبھا کی کارروائی منگل کو دوپہر 2 بجکر 5 منٹ پر ملتوی کر دی گئی۔ یہ فیصلہ اپوزیشن کی جانب سے ملک بھر میں ووٹر لسٹ کے خصوصی تفصیلی جائزہ (Special Intensive Revision – SIR) پر بحث کے مطالبے کے درمیان لگاتار ہنگامے کے بعد لیا گیا۔ اسپیکر کی کرسی پر موجود ممبرپارلیمنٹ دلیپ سائکا نے اپوزیشن ارکان سے اپیل کی کہ وہ ایوان کی کارروائی میں خلل نہ ڈالیں اور نظم و ضبط برقرار رکھیں۔ انہوں نے کہا ’’ملک چاہتا ہے کہ پارلیمنٹ چلے، عوام کی بھی سنیں۔ آپ لوگوں کے رویے کی وجہ سے لوک سبھا نہیں چل پارہی اور پورا ملک یہ دیکھ رہا ہے۔ اگر آپ کارروائی نہیں چلنے دینا چاہتے تو ہمارے پاس راستہ نہیں۔‘‘

اپوزیشن کا احتجاج اور نعرے بازی

جیسے ہی کارروائی آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی، اپوزیشن ارکان اپنی سیٹوں سے اٹھ کر ایوان کے وسط میں آگئے اور نعرے بازی شروع کر دی۔ اپوزیشن کی جانب سے ’’چیئرمین سر، چیئرمین سر، ہمیں بھی سن لیں‘‘ اور ’’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘‘ جیسے نعرے مسلسل گونجتے رہے۔ ہاؤس میں قواعد 377 کے تحت معاملات اٹھانے کی کوشش بھی کی گئی، مگر مسلسل احتجاج کے باعث کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔

بار بار ملتوی ہونے والی کارروائی

آج ایوان نے 11 بجے کام شروع کیا، مگر ہنگامے کے باعث چند ہی منٹ میں پہلی بار کارروائی ملتوی ہوئی۔ دو بار مزید وقفوں کے بعد بھی حالات معمول پر نہ آ سکے اور ایوان طوالت کے بعد بالآخر دن بھر کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔ کارروائی کے مختصر اوقات میں وزراء اور ارکان پارلیمنٹ نے مختلف کمیٹیوں کی رپورٹس پیش کیں جبکہ سوال جواب کا سلسلہ بھی کچھ دیر جاری رہا۔

حکومت کا ردعمل: ’’احتجاج پر احتجاج‘‘

دوپہر بارہ بجے آخری بار ملتوی ہونے سے قبل پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے اپوزیشن پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بحث سے نہیں بھاگ رہی مگر ایوان قواعد کے مطابق ہی چل سکتا ہے۔ رجیجو نے کہا: ’’ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ بات تحمل سے کریں۔ آج پھر احتجاج پر احتجاج کرنا پڑ رہا ہے۔ ملک میں کئی مسائل ہیں، کوئی بھی مسئلہ دوسرے سے کم نہیں، مگر پارلیمنٹ ضابطوں کے مطابق چلتی ہے۔‘‘

سرمائی اجلاس بدستور تنازعات کا شکار

سرمائی اجلاس کے آغاز سے ہی اپوزیشن احتجاج کے موڈ میں ہے اور لگاتار نعرے بازی  اور کارروائی میں رخنہ اندازی کررہی ہے۔ حکومت کی جانب سے تعاون کی اپیل کے باوجود اب تک کوئی پیش رفت نظر نہیں آئی۔ ایوان کی کارروائی کب معمول پر آئے گی، اس پر سب کی نگاہیں مرکوز ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read